تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 134

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة البقرة بشری صورت سے منتقل ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور یادرکھنا چاہیئے کہ یہ تقریر از قبیل خطابیات نہیں بلکہ یہ وہ صداقت ہے جو طالب حق اور حکمت کو ضرور ماننی پڑے گی کیونکہ جب ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور کا ئنات الارض کی تربیت اجرام سماویہ کی طرف سے ہو رہی ہے اور جہاں تک ہم بطور استقراءاجسام ارضیہ پر نظر ڈالتے ہیں اس تربیت کے آثار ہر یک جسم پر خواہ وہ نباتات میں سے ہے خواہ جمادات میں سے خواہ حیوانات میں سے ہے بدیہی طور پر ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔پس اس صریح تجربہ کے ذریعہ سے ہم اس بات کے ماننے کے لئے بھی مجبور ہیں کہ روحانی کمالات اور دل اور دماغ کی روشنی کا سلسلہ بھی جہاں تک ترقی کرتا ہے بلا شبہ ان نفوس نورانیہ کا اُس میں بھی دخل ہے۔اسی دخل کی رو سے شریعت غزا نے استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ہونا ایک ضروری امر ظاہر فرمایا ہے جس پر ایمان لانا ضروریات دین میں سے گردانا گیا ہے۔جن لوگوں نے اپنی نہایت مکر وہ نادانی سے اس الہی فلسفہ کو نہیں سمجھا جیسے آریہ مذہب والے یا برہمومذہب والے انہوں نے جلدی سے باعث اپنے بے وجہ بخل اور بغض کے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے تعلیم فرقانی پر یہ اعتراض جڑ دیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ضروری ٹھہراتا ہے اور اس بات کو نہ سمجھا اور نہ خیال کیا کہ خدائے تعالیٰ کا عام قانون تربیت جو زمین پر پایا جاتا ہے اسی قاعدہ پر مبنی ہے۔ہندوؤں کے رشی جن پر بقول ہندوؤں کے چاروں وید نازل ہوئے کیا وہ اپنے جسمانی قومی کے ٹھیک ٹھیک طور پر قائم رہنے میں تاثیرات اجرام سماویہ کے محتاج نہیں تھے ؟ کیا وہ بغیر آفتاب کی روشنی کے صرف آنکھوں کی روشنی سے دیکھنے کا کام لے سکتے تھے یا بغیر ہوا کے ذریعہ کے کسی آواز کو سن سکتے تھے؟ تو اس کا جواب بدیہی طور پر یہی ہوگا کہ ہرگز نہیں بلکہ وہ بھی اجرام سماویہ کی تربیت اور تکمیل کے بہت محتاج تھے۔ہندوؤں کے ویدوں نے ان ملائک کے بارے میں کہاں انکار کیا ہے بلکہ انہوں نے تو ان وسائط کے ماننے اور قابل قدر جاننے میں بہت ہی غلو کیا ہے یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کے درجہ سے ان کا درجہ برابر ٹھہرا دیا ہے ایک رگ وید پر ہی نظر ڈال کر دیکھو کہ کس قدر اس میں اجرام سماویہ اور عناصر کی پرستش موجود ہے اور کیسی ان کی اُستت اور مہما اور مدح اور شنا میں ورقوں کے ورق سیاہ کر دیئے ہیں اور کس عاجزی اور گڑ گڑانے سے ان سے دُعائیں مانگی گئی ہیں جو قبول بھی نہیں ہوئیں مگر شریعت فرقانی نے تو ایسا نہیں کیا بلکہ اُن نفوس نورانیہ کو جو اجرام سماویہ سے یا عناصر یا د خانات سے ایسا تعلق رکھتے ہیں جیسے جان کا جسم سے تعلق ہوتا ہے صرف ملائک یا جنات کے نام سے موسوم کیا ہے اور ان نورانی فرشتوں کو جو نورانی ستاروں اور سیاروں پر اپنا مقام