تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 132

۱۳۲ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملائک کے وجود کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور ایمانی امور کے لئے صرف اس قدر ثبوت کی حاجت ہے تا تکلیف مالا يطاق نہ ہو اور نیز ایمان لانے کا ثواب بھی ضائع نہ ہو کیونکہ اگر ملائک کے وجود کا ایسا ثبوت دیا جاتا کہ گویا ان کو پکڑ کر دکھلا دیا جاتا تو پھر ایمان ایمان نہ رہتا اور نجات کی حکمت عملی فوت ہو جاتی۔فَافُهُمْ وَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُسْتَعْجِلِينَ - (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۱ تا ۲۱۴ حاشیه ) جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔جو چیز کسی عمدہ جو ہر بننے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگر چہ خاک کا ایک ٹکڑہ ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں داخل ہوتا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی تربیت سے لعل اور الماس اور یا قوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل اور دماغ کا انسان بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔قرآن شریف میں جس طرز سے ملائک کا حال بیان کیا ہے وہ نہایت سیدھی اور قریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا۔قرآن شریف پر بدیدہ تعمق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بلکہ جمیع کا ئنات الارض کی تربیت ظاہری و باطنی کے لئے بعض وسائط کا ہونا ضروری ہے اور بعض بعض اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ نفوس طبیہ جو ملائک سے موسوم ہیں اُن کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری و ہ نفوس طبیبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیئے کہ جیسے زمین کا ہر یک جاندار اپنے اندر جان رکھتا ہے بلکہ ان نفوس طبیہ کو بوجہ مناسبت اپنی نورانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الکنہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگر اُن نفوس طبیہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے تو پھر اُن کے تمام قومی میں فرق پڑ جائے گا۔انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدائے تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے ایسا ہی ( مگر اس جگہ تشبیه کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ