تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 125

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۵ سورة البقرة پر مہربان ہونا یا اس سے ناراض ہو جانا اور اپنے نفس سے ایک بات کو چاہنا یا اس سے کراہت کرنا کچھ بھی نہیں رکھتے بلکہ بکلی جوارح الحق کی طرح ہیں۔خدا تعالیٰ کے تمام ارادے اول انہیں کے مرا یا صافیہ میں منعکس ہوتے ہیں اور پھر ان کے توسط سے کل مخلوقات میں پھیلتے ہیں چونکہ خدا تعالی بوجہ اپنے مقدس نام کے نہایت تجرد اور تنڑہ میں ہے اس لئے وہ چیزیں جو انانیت اور ہستی مجو بہ کی کثافت سے خالی نہیں اور مجوب بانفسہا ہیں اس میدہ فیض سے کچھ مناسبت نہیں رکھتیں اور اسی وجہ سے ایسی چیزوں کی ضرورت پڑی جو مِن وَجْهِ خدا تعالیٰ سے مناسبت رکھتی ہوں اور من وجہ اس کی مخلوق سے تا اس طرف فیضان حاصل کریں اور اس طرف پہنچادیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی اپنے وجود اور قیام اور حرکت اور سکون اور اپنے تغیرات ظاہری اور باطنی اور اپنے ہر ایک خاصہ کے اظہار اور اپنے ہر ایک عرض کے اخذ یا ترک میں مستقل بالذات نہیں بلکہ اس ایک ہی حتی و قیوم کے سہارے سے یہ تمام کام مخلوق کے چلتے ہیں اور بظاہر اگر چہ یہی نظر آتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں کسی غیبی مدد کے محتاج نہیں جب چاہیں حرکت کر سکتے ہیں اور جب چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور جب چاہیں بول سکتے ہیں اور جب چاہیں چپ کر سکتے ہیں۔لیکن ایک عارفانہ نظر کے ساتھ ضرور کھل جائے گا کہ ہم اپنی ان تمام حرکات و سکنات اور سب کاموں میں غیبی مدد کے ضرور محتاج ہیں اور خدا تعالیٰ کی قیومیت ہمارے نطفہ میں، ہمارے علقہ میں، ہمارے مضغہ میں، ہمارے جنین میں اور ہماری ہر یک حرکت میں اور سکون میں اور قول میں اور فعل میں غرض ہماری تمام مخلوقیت کے لوازم میں کام کرتی ہے مگر وہ قیومیت بو جہ ہمارے محجوب بانفسنا ہونے کے براہِ راست ہم پر نازل نہیں ہوتی کیونکہ ہم میں اور اس ذات الطف اللطائف اور اعلیٰ اور اغنی اور نور الانوار میں کوئی مناسبت درمیان نہیں کیونکہ ہر ایک چیز ہم میں سے خواہ وہ جاندار ہے یا بے جان محجوب بنفسہ اور ساحت قدسیہ تنزّہ سے بہت دور ہے اس لئے خدا تعالیٰ میں اور ہم میں ملائک کا وجود اسی طرح ضروری ہوا جیسا کہ نفس ناطقہ اور بدن انسان میں قوائے روحانیہ اور حسیہ کا توسط ضروری ٹھہرا کیونکہ نفس ناطقہ نہایت تجرد اور لطافت میں تھا اور بدن انسان محجوب بنفسہ اور کثافت اور ظلمت میں پڑا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان میں قومی روحانیہ اور حسیہ کو ذو جہتین پیدا کیا تا وہ قومی نفس ناطقہ سے فیضان قبول کر کے تمام جسم کو اس سے متاذب اور مہذب کریں۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۶ تا ۱۷۳ حاشیه ) ملائک کی نسبت جو اجرام علوی اور اجسام سفلی کی طرف ہے وہ در حقیقت ایسی ہی ہے جیسے قومی روحانیہ اور