تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 112

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۲ سورة البقرة کی نمازیں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہرگز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور روحانیت سے خالی ہیں۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۲) عملِ صالحہ ہماری اپنی تجویز اور قرارداد سے نہیں ہو سکتا۔ اصل میں اعمالِ صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کا کوئی فساد نہ ہو کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے۔ جیسے غذا طبیب اُس وقت ہوتی ہے کہ وہ نہ کچی ہو نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنیٰ درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جو فوراً جزو بدن ہو جانے والی ہو۔ اسی طرح پر ضروری ہے کہ عمل صالح میں بھی کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق ہو۔ اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو نہ عجب ہو نہ دیا ہو نہ وہ اپنی تجویز سے ہو۔ جب ایسا عمل ہو تو وہ عمل صالح کہلاتا ہے اور یہ کبریت احمر ہے۔ (احکام جلد ۸ نمبر ۱۴، ۱۵ مورخه ۳۰ اپریل و ۱۰مئی ۱۹۰۴ صفحه ) ایسا ہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی بہشتیوں کے ہمیشہ بہشت میں رہنے کا جا بجاذکر ہے اور سارا قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے : وَ لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خُلِدُونَ اور أُولَئِكَ أَصْحُبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ (البقرة : ۸۳ ) وغیرہ ۔ وغیرہ ۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۱) فلاح آخرت بجز اعمالِ صالحہ کے نہیں اور اعمال صالحہ وہ ہوں جو خلاف نفس اور مشقت سے ادا کئے جائیں اور عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل سے جس کام کے لئے مصم عزم کیا جاوے اس کے انجام کے لئے طاقت مل جاتی ہے۔ سو مصمم عزم اور عہد واثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ۔ ( مکتوبات جلد ۵ نمبر ۵ صفحه ۶۰ مکتوب نمبر ۱۶ بنام حضرت منشی ظفر احمد صاحب ) یہ جو لکھا ہے کہ بہشت میں دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی تو اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہاں گائیوں کا ایک گلہ ہوگا اور بہت سارے گوالے ہوں گے جو دودھ دوہ ، دوہ کر ایک نہر میں ڈالتے رہیں گے یا بہت سے چھتے شہد کی مکھیوں کے ہوں گے اور پھر ان کا شہد جمع کر کے نہروں میں گرایا جاوے گا یہ مطلب نہیں ۔ - اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات نہ ہو گی اگر یہی خربوزہ اور تربوز یا انار ہوں گے تو پھر بات ہی کیا ہوئی کافر بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے یہاں اس دنیا میں کھا لئے تم نے آگے جا کر کھائے۔ اس کی حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَ بَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ یعنی جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجالاتے ہیں وہ