تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 109
۱۰۹ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہرگز نہیں ہے کہ دنیا میں جو نعمتیں مثل دودھ، شہد، گھی اور انار اور انگور وغیرہ اُنہوں نے کھائی ہیں۔وہی اُن کو وہاں جنت میں ملیں گے اور وہاں ان چیزوں کے مہیا کرنے کے لئے بہت سے باغات، درخت، مالی اور بیل وغیرہ اور گائیں بھینسوں کے ریوڑ ہوں گے اور درختوں پر شہد کی مکھیوں کے چھتے ہوں گے جن سے شہدا تار کر اہل جنت کو دیا جاوے گا یہ سب غلط خیال ہیں اگر جنت کی یہی نعمت ہے جو ان کو دنیا میں ملتی رہی اور آخرت میں بھی ملے گی تو مومنوں اور کافروں میں کیا فرق رہا؟ ان سب چیزوں کے حاصل کرنے میں تو کافر اور مشرک بھی شریک ہیں پھر اس میں بہشت کی خصوصیت کیا ہے؟ لیکن قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ بہشت کی نعمتیں ایسی چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں گزریں اور ہم دنیا کی نعمتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ سب آنکھوں نے دیکھی کانوں نے سنی اور دل میں گزری ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ ان جنتی نعمتوں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر وہ اصل میں اور امور ہیں ورنہ رزقنا من قبل کے کیا معنے ہوں گے اس کے وہی معنے ہیں جو کہ مَنْ كَانَ فِي هذة اغْنى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَغْنی کے ہیں دوسرے مقام پر قرآن شریف فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتن ( الرحمن : ۴۷) جو شخص خدا تعالیٰ سے خائف ہے اور اس کی عظمت اور جلال کے مرتبہ سے ہراساں ہے اس کے لئے دو بہشت ہیں ایک یہی دنیا اور دوسری آخرت۔جو شخص بچے اور خالص دل سے نقش ہستی کو اس کی راہ میں مٹا کر اس کے متلاشی ہوتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں تو اس میں ان کو ایک قسم کی لذت شروع ہو جاتی ہے اور ان کو وہ روحانی غذا ئیں ملتی ہیں جو روح کو روشن کرتی اور خدا کی معرفت کو بڑھاتی ہیں۔ایک جگہ پر شیخ عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو اس کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کی نماز اب بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتی بلکہ یہ معنے ہیں کہ چونکہ اب اسے لذت شروع ہو گئی ہے تو جو اجر اس کا عنداللہ تھا وہ اب اُسے دنیا میں ملنا شروع ہو گیا ہے۔جیسے ایک شخص اگر دودھ میں برف اور خوشبو وغیرہ ڈال کر پیتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اُسے ثواب ملے گا کیونکہ لذت تو اس نے اس کی یہیں حاصل کر لی۔خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور کسی عمل کی قبولیت اور شے ہے اور ثواب اور شئے ہے، ہر ایک لفظ اپنے اپنے مقام کے لئے چسپاں ہوتا ہے۔اس لحاظ سے شیخ عبدالقادر صاحب نے فرمایا کہ عارف کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے۔جو اہلِ حال ہوتا ہے وہ اپنی جگہ پورے بہشت میں ہوتا ہے اور جب انسان کو خدا سے پورا تعلق ہوجاتا ہے تو اخلال اور انتقال جس قدر بوجھ اس کی گردن میں ہوتے ہیں وہ سب اُٹھائے جاتے