تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 105
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۵ سورة البقرة ہیں اور اصل حقیقت یہی ہے کہ وہی اعمال صالحہ اس دوسرے جہاں میں انہار جاریہ کے رنگ میں متمثل ہو جائیں گے۔دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جس جس قدر انسان اعمال صالحہ میں ترقی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتا اور سرکشی اور حدود اللہ سے اعتدا کرنے کو چھوڑتا ہے اسی قدر ایمان اُس کا بڑھتا ہے اور ہر جدید عمل صالحہ پر اس کے ایمان میں ایک رسوخ اور دل میں ایک قوت آتی جاتی ہے۔خدا کی معرفت میں اسے ایک لذت آنے لگتی ہے اور پھر یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ مومن کے دل میں ایک ایسی کیفیت محبت الہی اور عشق خداوندی کی اللہ تعالیٰ ہی کی موہت اور فیض سے پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کا سارا اوجود اس محبت اور سرور سے جو اس کا نتیجہ ہوتا ہے لبالب پیالہ کی طرح بھر جاتا ہے اور انوار الہی اس کے دل پر بکلی احاطہ کر لیتے ہیں اور ہر قسم کی ظلمت اور تنگی اور قبض دور کر دیتے ہیں۔اس حالت میں تمام مصائب اور مشکلات بھی جو خدا تعالیٰ کی راہ میں ان کے لئے آتے ہیں وہ انہیں ایک لحظہ کے لئے پراگندہ دل اور منقبض خاطر نہیں کر سکتے بلکہ وہ بجائے خود محسوس اللذت ہوتے ہیں یہ ایمان کا آخری درجہ ہوتا ہے۔ایمان کے انواع اولیہ بھی سات ہیں اور ایک اور آخری درجہ ہے جو موہبت الہی سے عطا کیا جاتا ہے اس لئے بہشت کے بھی سات ہی دروازے ہیں اور آٹھواں دروازہ فضل کے ساتھ کھلتا ہے غرض یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بہشت اور دوزخ جو اُس جہان میں موجود ہوں گی وہ کوئی نئی بہشت و دوزخ نہ ہوگی بلکہ انسان کے ایمان اور اعمال ہی کا وہ ایک ظل ہیں اور یہی اُس کی سچی فلاسفی ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کے اندر ہی سے وہ نکلتی ہے۔مومن کے لئے ہر حال میں اسی دنیا میں بہشت موجود ہوتا ہے۔اسی عالم کا بہشت موجود دوسرے عالم میں اس کے لئے بہشت موعود کا حکم رکھتا ہے۔پس یہ کیسی سچی اور صاف بات ہے کہ ہر ایک کا بہشت اُس کا ایمان اور اعمال صالحہ ہیں جن کی اس دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہے اور یہی ایمان اور اعمال دوسرے رنگ میں باغ اور نہریں دکھائی دیتی ہیں۔میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ اسی دنیا میں باغ اور نہریں نظر آتی ہیں اور دوسرے عالم میں بھی باغ اور نہریں کھلے طور پر محسوس ہوں گی۔اسی طرح پر جہنم بھی انسان کی بے ایمانی اور بداعمالی کا نتیجہ ہے جیسے جنت میں انگور، انار وغیرہ پاک درختوں کی مثال دی ہے ویسے ہی جہنم میں زقوم کے درخت کا وجود بتایا ہے اور جیسے بہشت میں نہریں اور