تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 101

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+1 سورة البقرة کوئی ایمان بغیر نیک کاموں کے زندہ ایمان نہیں کہلا سکتا اگر ایمان ہو اور اعمال نہ ہوں تو وہ ایمان بیچ ہے اور اگر اعمال ہوں اور ایمان نہ ہو تو وہ اعمال ریا کاری ہیں۔اسلامی بہشت کی یہی حقیقت ہے کہ وہ اس دنیا کے ایمان اور عمل کا ایک ظل ہے وہ کوئی نئی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کی بہشت انسان کے اندر ہی سے نکلتی ہے اور ہر ایک کی بہشت اسی کا ایمان اور اسی کے اعمال صالحہ ہیں جن کی اسی دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ نظر آتے ہیں اور نہریں بھی دکھائی دیتی ہیں لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے۔خدا کی پاک تعلیم ہمیں یہی بتلاتی ہے کہ سچا اور پاک اور مستحکم اور کامل ایمان جو خدا اور اس کی ذات * اور اس کی صفات اور اس کے ارادوں کے متعلق ہو وہ بہشت خوش نما اور بارور درخت ہے اور اعمال صالحہ اس بہشت کی نہریں ہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۰) موت کے بعد جو کچھ انسان کی حالت ہوتی ہے درحقیقت وہ کوئی نئی حالت نہیں ہوتی بلکہ وہی دنیا کی زندگی کی حالتیں زیادہ صفائی سے کھل جاتی ہیں۔جو کچھ انسان کے عقائد اور اعمال کی کیفیت صالحہ یا غیر صالحہ ہوتی ہے۔وہ اس جہان میں مخفی طور پر اس کے اندر ہوتی ہے اور اس کا تریاق یا ز ہر ایک چھپی ہوئی تاثیر انسانی وجود پر ڈالتا ہے۔مگر آنے والے جہان میں ایسا نہیں رہے گا بلکہ وہ تمام کیفیات کھلا کھلا اپنا چہرہ دکھلائیں گی۔اس کا نمونہ عالم خواب میں پایا جاتا ہے کہ انسان کے بدن پر جس قسم کے مواد غالب ہوتے ہیں عالم خواب میں اسی قسم کی جسمانی حالتیں نظر آتی ہیں۔جب کوئی تیز تپ چڑھنے کو ہوتا ہے تو خواب میں اکثر آگ اور آگ کے شعلے نظر آتے ہیں اور بلغمی تپوں اور ریزش اور زکام کے غلبہ میں انسان اپنے تئیں پانی میں دیکھتا ہے۔غرض جس طرح کی بیماریوں کے لئے بدن نے تیاری کی ہو وہ کیفیتیں تمثل کے طور پر خواب میں نظر آ جاتی ہیں۔پس خواب کے سلسلہ پر غور کرنے سے ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ عالم ثانی میں بھی یہی سنت اللہ ہے کیونکہ جس طرح خواب ہم میں ایک خاص تبدیلی پیدا کر کے روحانیات کو جسمانی طور پر تبدیل کر کے دکھلاتا ہے۔اس عالم میں بھی یہی ہو گا۔اور اس دن ہمارے اعمال اور اعمال کے نتائج جسمانی طور پر ظاہر ہوں گے اور جو کچھ ہم اس عالم سے مخفی طور پر ساتھ لے جائیں گے وہ سب اس دن ہمارے چہرہ پر نمودار نظر آئے گا۔اور جیسا کہ انسان جو کچھ خواب میں طرح طرح کے تمثلات دیکھتا ہے اور کبھی گمان نہیں کرتا کہ یہ تمثلات ہیں بلکہ انہیں واقعی چیزیں یقین کرتا ہے ایسا ہی اُس عالم میں ہوگا بلکہ خدا تم قلات کے یہ الفاظ صرف اصل مسودہ میں ہیں۔(ناشر)