تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 97

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۷ سورة البقرة عدم ضرورت قرآن جیسے رسائل لکھنے پر دلیر کر دیا۔ کاش وہ سچی دانائی اور حقیقی فراست سے حصہ رکھتے تا وہ بھٹک نہ جاتے ۔ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ توریت میں لکھا ہے کہ تو زنا نہ کر ! ایسا ہی قرآن میں لکھا ہے کہ زنا نہ کر۔ قرآن توحید سکھلاتا ہے اور توریت بھی خدائے واحد کی پرستش سکھلاتی ہے۔ لیکن فرق کیا ہوا؟ بظاہر یہ سوال بڑا پیچدار ہے۔ اگر کسی ناواقف آدمی کے سامنے پیش کیا جاوے تو وہ گھبرا جاوے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے باریک اور پیچید ارسوالات کا حل بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی تو قرآنی معارف ہیں جو اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور توریت میں تطابق ضرور ہے اس سے ہم کو انکار نہیں لیکن توریت نے صرف متن کو لیا ہے جس کے ساتھ دلائل ، براہین اور شرح نہیں ہے۔ لیکن قرآن کریم نے معقولی رنگ کو لیا ہے۔ اس لئے کہ توریت کے وقت انسانوں کی استعداد یں وحشیانہ رنگ میں تھیں ۔ اس لئے قرآن نے وہ طریق اختیار کیا جو عبادت کے منافع کو ظاہر کرتا ہے اور جو بتلاتا ہے کہ اخلاق کے مفاد یہ ہیں ۔ اور نہ صرف مفاد اور منافع کو بیان ہی کرتا ہے بلکہ معقول طور پر دلائل و براہین کے ساتھ اُن کو پیش کرتا ہے تا کہ عقل سلیم سے کام لینے والوں کو کوئی جگہ انکار کی نہ رہے۔ جیسا میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ قرآن کے وقت استعداد میں معقولیت کا رنگ پکڑ گئی تھیں اور توریت کے وقت وحشیانہ حالت تھی ۔ آدم سے لے کر زمانہ ترقی کرتا گیا تھا اور قرآن کے وقت دائرہ کی طرح پورا ہو گیا۔ حدیث میں ہے زمانہ متدیر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَ 1: خَاتَمَ النَّبِينَ (الاحزاب: ۴۱) ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی تو قرآنی اعجاز ہے کہ وہ اپنے پیرو کوکسی دوسرے کا محتاج نہیں ہونے دیتا۔ دلائل اور براہین بھی خود ہی بیان کر کے اسے مستغنی کر دیتا ہے۔ قرآن شریف نے دلائل کے ساتھ احکام کو کام کو لکھا ہے اور ۔ ہر حکم کے جدا گانہ دلائل دیئے ہیں ۔ غرض یہ دو بڑے فرق ہیں جو توریت اور قرآن میں ہیں ؛ اول الذکر میں طریق استدلال نہیں ، دعوے کی دلیل خود تلاش کرنی پڑتی ہے۔ آخر الذکر اپنے دعوے کو ہر قسم کی دلیل سے مدلل کرتا ہے اور پھر پیش کرتا ہے اور خدا کے احکام کو زبردستی نہیں منواتا بلکہ انسان کے منہ سے سرتسلیم خم کرنے کی صدا نکلواتا ہے۔ نہ کسی جبر واکراہ سے بلکہ اپنے لطیف طریق استدلال سے اور فطری سیادت سے۔ توریت کا مخاطب خاص گروہ ہے اور قرآن کے مخاطب کل لوگ جو قیامت تک پیدا ہوں ۔ ( رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۸۴ تا ۸۸ ) عبداللہ ابن ابی سرح کے کلام سے خدا تعالیٰ کے کلام کا تو ارد ہوا یعنی عبد اللہ کے منہ سے بھی یہ فقرہ نکلا تھا