تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 96
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام १५ سورة البقرة دے۔ صداقت اور حکمت کو بھی نہ چھوڑے۔ یہ معجزہ قرآن شریف ہی کا ہے جو آفتاب کی طرح روشن ہے جو ہر پہلو سے اپنے اندر اعجازی طاقت رکھتا ہے۔ انجیل کی طرح نرے زبانی ہی جمع خرچ نہیں کہ ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دو۔ یہ لحاظ اور خیال نہیں کہ یہ تعلیم حکیمانہ فعل سے کہاں تک تعلق رکھتی ہے۔ اور انسان کی فطرت کا لحاظ اس میں کہاں تک ہے؟ اس کے مقابل میں قرآن کی تعلیم پڑھیں گے تو پتہ لگ جائے گا کہ انسان کے خیالات ایسے ہر پہلو پر قادر نہیں ہو سکتے ۔ اور ایسی مکمل اور بے نقص تعلیم ، زمینی بم ، زمینی دماغ اور ذہن کا نتیجہ نہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہزار آدمی ہمارے سامنے مسکین ہوں اور ہم ایک دو کو کچھ دے دیں اور باقی کا خیال تک بھی نہ کریں۔ اسی طرح انجیل ایک ہی پہلو پر پڑی ہے باقی پہلوؤں کا اُسے خیال تک بھی نہیں رہا۔ ہم یہ انجیل پر الزام نہیں دیتے۔ یہ یہودیوں کی شامت اعمال کا نتیجہ ہے جیسی اُن کی استعداد میں تھیں اُن کے ہی موافق انجیل آئی: جیسی روح ویسے فرشتے ۔ اس میں کسی کا کیا قصور؟ اس کے علاوہ انجیل ایک قانون ہے مختص المقام والزمان اور مختص القوم ۔ جیسا کہ انگریز بھی قوانین مختص المقام اور مختص الوقت نافذ کر دیتے ہیں بعد از وقت اُن کا اثر نہیں رہتا۔ اسی طرح انجیل بھی ایک مختص قانون ہے عام نہیں۔ مگر قرآن کریم کا دامن بہت وسیع ہے، وہ قیامت تک ایک ہی لا تبدیل قانون ہے اور ہر قوم اور ہر وقت کے لئے ہے چنانچہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے : وَ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ ۖ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر : ۲۲) یعنی ہم اپنے خزانوں میں سے بقدر معلوم نازل کرتے ہیں انجیل کی ضرورت اسی قدر تھی ، اس لئے انجیل کا خلاصہ ایک صفحہ میں آسکتا ہے۔ لیکن قرآن کریم کی ضرورتیں تھیں سارے زمانہ کی اصلاح قرآن کا مقصد تھا وحشیانہ حالت سے انسان بنانا، انسانی آداب سے مہذب انسان بنانا تا شرعی حدود اور احکام کے ساتھ مرحلہ طے ہوا اور پھر با خدا انسان بنانا۔ یہ لفظ مختصر ہیں مگر اس کے ہزار ہا شعبہ ہیں چونکہ یہودیوں ،طبعیوں ، آتش پرستوں اور مختلف اقوام میں بد روشی کی روح کام کر رہی تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے با علام الہی سب کو مخاطب کر کے کہا : يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) ۔ اس لئے ضروری تھا کہ قرآن شریف ان تمام تعلیمات کا جامع ہوتا جو وقتاً فوقتاً جاری رہ چکی تھیں، اور اُن تمام صداقتوں کو اپنے اندر رکھتا جو آسمان سے مختلف اوقات میں مختلف نبیوں کے ذریعے زمین کے باشندوں کو پہنچائی گئیں تھیں ۔ قرآن کریم کے مد نظر تمام نوع انسان تھا نہ کوئی خاص قوم اور ملک اور زمانہ اور انجیل کا مد نظر ایک خاص قوم تھی۔ اس لئے مسیح علیہ السلام نے بار بار کہا کہ میں اسرائیل کی گم گشتہ بھیٹروں کی تلاش میں آیا ہوں۔“ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کیا لایا ؟ وہی تو ہے جو توریت میں ہے۔ اسی کو تاہ نظری نے بعض عیسائیوں کو - -