تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 95
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۵ سورة البقرة سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اُٹھائے گا اُس کو آخر کا راسی خدا کی طرف آنا پڑے گا جو اسلام نے پیش کیا ہے۔کیونکہ صحیفہ فطرت کے ایک ایک پتہ میں اُس کا پتا ملتا ہے اور بالطبع انسان اُسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔غرض ایسے آدمیوں کا قدم جب اُٹھے گا وہ اسلام ہی کے میدان کی طرف اُٹھے گا یہ بھی تو ایک عظیم الشان اعجاز ہے۔اگر کوئی قرآن کریم کے اس معجزہ کا انکار کرے تو ایک ہی پہلو میں ہم لوگوں کو آزما لیتے ہیں۔یعنی اگر قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتا تو اس روشنی اور سائنس کے زمانہ میں ایسا مدعی خدائے تعالیٰ کی ہستی پر دلائل لکھے ہم وہ تمام دلائل بھی قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھا دیں گے۔اور اگر توحید الہی کی نسبت قلم بند کرے تو وہ سب دلائل بھی قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھا دیں گے اور وہ ویسے دلائل کا دعوی کر کے لکھیں کہ یہ دلائل قرآن میں نہیں یا اُن صداقتوں اور پاک تعلیموں پر لکھے جن کی نسبت اُن کا خیال ہو کہ وہ قرآن کریم میں نہیں تو ہم اس کو واضح طور پر دکھلا دیں گے کہ قرآن کا دعویٰ فِيْهَا كُتُب قيمةٌ کیسا سچا اور صاف ہے اور یا اصل اور فطرتی مذہب کی بابت دلائل لکھنا چاہے تو ہم ہر پہلو سے قرآن کریم کا اعجاز ثابت کر کے دکھا ئیں گے اور بتلادیں گے کہ تمام صداقتیں اور پاک تعلیمیں اُسی میں موجود ہیں۔الغرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار اُس میں موجود ہیں لیکن اُن کے حاصل کرنے کے لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اُسی قوت قدسیہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے- لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ - (الواقعة : ٨٠) ایسا ہی فصاحت بلاغت میں مثلاً سورۃ فاتحہ کی ترکیب چھوڑ کر اور ترکیب استعمال کرو تو وہ مطالب عالیہ اور مقاصد اشلی جو اس ترکیب میں موجود ہیں، ممکن نہیں کسی دوسری ترکیب میں بیان ہو سکیں۔کوئی سورۃ لے لو خواہ قُلْ هُوَ الله ہی کیوں نہ ہو۔جس قدر نرمی ، ملاطفت کی رعایت کو ملحوظ رکھ کر اُس میں معارف اور حقائق ہیں وہ کوئی دوسرا بیان نہ کر سکے گا یہ بھی اعجاز قرآن ہی ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب بعض نادان مقامات حریری یا سبعہ معلقہ کو بے نظیر اور بے مثل کہتے ہیں اور اس طرح پر قرآن کریم کی بے مانندیت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ اول تو حریری کے مصنف نے کہیں اُس کے بینظیر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔پھر وہ خود قرآن کی اعجازی فصاحت کا قائل تھا۔ان باتوں کو چھوڑ کر وہ راستی اور صداقت کو ذہن میں نہیں رکھتے بلکہ اُن کو چھوڑ کر الفاظ کی طرف جاتے رہے ہیں۔وہ کتابیں حق اور حکمت سے خالی ہیں۔اعجاز کی خوبی اور وجہ تو یہی ہے کہ ہر رعایت کو زیر نظر رکھے۔فصاحت بلاغت کو بھی ہاتھ سے جانے نہ