تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 94
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۴ سورة البقرة وَلَكِنَّكَ رَ۔ رَجُلٌ غَيْرُ جَهُولٌ، وَمَعَ ذَلِكَ تمکین سمجھتے ہیں اور تفقن عبارات کے عشاق اس سے لذت مُعَائِدٌ وَ عَجُولٌ فَلا جُلِ ذَلِكَ مَا اٹھاتے ہیں مگر تو تو اے معترض ! ایک غبی اور جاہل ہے اور تَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ حِقْدِكَ وَجَهْلِكَ، باوجود اس کے تو جلد باز اور دشمن حق ہے اس لئے تو بغیر کینہ وَمَا تَضَعُ قَدَمًا إِلَّا فِي دَحْلِكَ، وَلا اور جہل کے اور کچھ نہیں جانتا اور بغیر گڑھے کے اور کسی جگہ تَدْرِي مَا لِسَانُ الْعَرَبِ وَمَا قدم نہیں رکھتا اور تو نہیں جانتا کہ زبان عرب کیا شے ہے اور الْفَصَاحَةُ۔ نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۴۵ تا ۱۵۰) فصاحت کسے کہتے ہیں ۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) قرآن کریم اپنے اعجاز کے ثبوت میں اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ کہتا ہے۔ یہ معجزات روحانی ہیں جس طرح وحدانیت کے دلائل دیتے ہیں۔ اسی طرح پر حکمت، فصاحت، بلاغت بھی انسان اُس کی مثل بنانے پر قادر نہیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا : قل لين اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هُذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ (بنی اسرائیل: ۸۹) غرض روحانی معجزات میں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ مسلمانوں کا زعم اور خیال ہے۔ آج کل کے نیچری نہیں بلکہ خلاف نیچر، یہ نہیں مانتے کہ قرآن کا معجزہ ہے۔ سید احمد نے بھی ٹھوکر کھائی ہے اور وہ اُس کی فصاحت و بلاغت کو معجزہ نہیں مانتا۔ جب ہم یاد کرتے ہیں تو ہم کو افسوس ہوتا ہے کہ سید احمد نے معجزات سے انکار کیا ہے۔ سید صاحب کسی طور سے معجزہ نہیں مان سکتا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ایک معمولی درجہ کا آدمی یا اعلیٰ درجہ کا آدمی بھی نظیر بنا سکتا ہے۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ وہ اتنا نہیں جانتے کہ قرآن لانے والا وہ شان رکھتا ہے کہ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ ( البينة : ۳، ۴) ایسی کتاب جس میں ساری کتابیں اور ساری صداقتیں موجود ہیں۔ کتاب سے مراد اور عام مفہوم وہ عمدہ باتیں ہیں جو بالطبع انسان قابل تقلید سمجھتا ہے۔ قرآن شریف ایسی حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور رطب و یابس کا ذخیرہ اُس کے اندر نہیں۔ ہر ایک چیز کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اُس کے اندر موجود ہے۔ وہ ہر پہلو سے نشان اور آیت ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو ہم ہر پہلو سے اُس کا اعجاز ثابت کرنے اور دکھلانے کو تیار ہیں۔ آج کل توحید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہورہے ہیں۔ عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا۔ لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا نہ کہ ایک مردہ مصلوب اور عاجز خدا کی بابت ۔ ہم دعوے