تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 92
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۲ سورة البقرة نَتَوَازَنَ فِي الْمَقَالِ، وَنَتَحَاذَى حَذْوَ النِّعَالِ یا اس سے نعل بنعل مقابلہ کریں ہم سے الگ ہو اور فَإِلَيْكَ عَنَّا وَتَجَافَ، وَاتْرُكِ الْأَوْصَافَ فَإِنَّ اپنی کلام کی تعریفیں چھوڑ دے کیونکہ تیرا کلام مشہور كَلَامَكَ سَقَطَ عِنْدَ الْأَدَبَاءِ الْمَشْهُورِينَ وَ ادیبوں کے نزدیک رڈی ہے مگر کفار عرب اس راہ نہیں الْفُصَحَاءِ الْمَاهِرِينَ وَلَكِنَّهُمْ مَا سَتَرَوُا ذلك چلے اور اس دعوی میں انہوں نے کچھ جرح قدح نہیں الْمَسْرَى، وَمَا قَدَحُوا فِي هَذَا الدَّعْوَى، بَلْ کیا بلکہ انہوں نے تو قرآن کے اعلیٰ مراتب بلاغت کو قَبِلُوا أَعْلَى مَرَاتِبِ بَلاغَتِهِ، وَعَجِبُوا لِعُلُو شَأْنِ قبول کر لیا اور اس کی عظیم الشان فصاحت سے تعجب میں فَصَاحَتِهِ، وَقَالُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ رہ گئے اور کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ وَأَكْثَرُهُمْ آمَنُوا بِإِعْجَازِهِ وَأَقَرُّوا اور اکثر ان کے اس قرآنی معجزہ پر ایمان لائے بِتَنَاوُشِ بَازِهِ وَعَجَزُوا عَنْ دَرْكِ اور اقرار کر لیا کہ اس کے باز کی سخت پکڑیں ہیں اور اس کی هِنْدَارِهِ، وَقَالُوا كَلَامُ فَاقَ كَلِمَاتِ حقیقت کی دریافت سے عاجز رہ گئے اور کہا کہ یہ ایک کلام الْبَشَرِ وَكُلُّه لُب وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٍ ہے کہ کلمات بشر پر غالب آ گیا اور وہ سارے کا سارا مغز مِنَ الْقِشْرِ وَعَلَيْهِ طَلَاوَةٌ، وَفِيهِ ہے اور اس کے ساتھ چھلکا نہیں اور اس پر ایک آب و تاب حَلَاوَةٌ، وَهُوَ غَدَقٌ لَّا يَنْفَدُ مِنْ ہے اور اس میں ایک حلاوت ہے اور وہ ایک بے اندازہ اور شُرْبِ الشَّارِبِينَ وَمَا نَبَسُوا بِكَلِمَةٍ فِي بکثرت مصفا پانی ہے جو پینے والوں کے پینے سے ختم قَدْحِ شَأْنِهِ وَمَا فَاهُوا بِكَلَامٍ فِي جَرْحِ نہیں ہوتا۔ اور قرآن کے قدح شان میں وہ کوئی کلمہ منہ پر بَيَانِهِ، وَنَسَوْا جِمَالَ الْفِكْرِ فِي مَيْدَانِهِ، نہ لائے اور اس کی جرح میں انہوں نے کوئی بات منہ سے ثُمَّ رَجَعُوا مَرْعُوبِينَ نَادِمِينَ نہ نکالی اور اس کے میدان میں انہوں نے فکر کے اونٹ وَأَكْثَرُهُمْ كَانُوا يَبْكُونَ عِنْدَ سِمَاعِهِ دوڑائے تو سہی مگر خوفناک اور شرمندہ ہو کر رجوع کیا اور اکثر وَيَسْجُدُونَ بَاكِينَ۔ ان کے قرآن کو سن کر روتے اور سجدہ کرتے تھے۔ هذَا مَا نَجِدُ فِي الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ وَ یہ وہ بیان ہے جو ہم قرآن کریم میں پاتے اور نبی أَحَادِيثِ النَّبِي الرَّؤُوفِ الرَّحِيمِ، إِيمَانًا و روف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں پڑھتے ہیں دِيَانَةً وَصِدْقًا وَأَمَانَةً، وَمَا نَجِدُ كَلِمَةً اور ہم نے اس کو ایمانا اور دیانتا اور امانتاً لکھا ہے اور ہم