تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 91

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ سورة البقرة وَلَمَّا عَجَرُوا عَنِ النِّضَالِ فِي الْبَيَانِ، مَالُوا إِلَی لیں اور جب خوش تقریری کی لڑائیوں سے عاجز آ السَّيْفِ وَالسَّنَانِ مُتَنَدِمِينَ مُغْتَاظِيْنَ گئے تو شرمندہ اور غضبناک ہو کر تلوار اور نیزہ کی طرف وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ أَسْلَمُوا نَظَرًا عَلَى هَذِهِ الْمُعْجِزَةِ جھک گئے اور بہت سے ان میں سے اعجاز بلاغت كَلَبِيْدِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَامِرِي، صَاحِبِ الْمُعَلَّقَةِ قرآن کو تسلیم کر کے ایمان لائے جیسا کہ لبید بن الرَّابِعَةِ، فَإِنَّهُ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ وَ تَشَرَّفَ بِه ربيعة العامری جو معلقہ رابعہ کا مصنف ہے اس نے وَأَرَى الْإِخْلَاصَ التَّامَّ، وَمَاتَ سَنَةَ إِحْدى اسلام کا زمانہ پایا اور مشرف باسلام ہوا اور پورا وَأَرْبَعِينَ۔ وَكَذَلِكَ كَثِيرٌ مِنْهُمْ أَقَرُّوا بِأَنَّ اخلاص دکھایا اور سن اکتالیس میں فوت ہوا۔ اور اسی الْقُرْآنُ مَمْلُو مِنَ الْعِبَارَاتِ الْمُهَنَّبَةِ، وَ طرح بہتوں نے ان میں سے قرآن شریف کی الْإِسْتِعَارَاتِ الْمُسْتَعْذَبَةِ، وَ الْأَفَانِينَ بلاغت فصاحت کو قبول کر لیا اور اقرار کر لیا کہ الْمُسْتَمْلَحَةِ وَ الْمَضَامِينِ الْحِكْمِيَّةِ الْمُوَشَحَةِ در حقیقت قرآن عبارات پاکیزہ سے پر اور شیریں بَلْ مَنْ أَمْعَنَ مِنْهُمُ النَّظْرَ فَسَعَى إِلَى استعارات سے مالا مال اور ملیح تقریروں اور آراستہ الْإِسْلَامِ وَحَضَرَ وَ دَخَلَ فِي الْمُؤْمِنِينَ فَلَوْ اور حکمیہ مضمونوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ جس نے اس كَانَ الْقُرْآنُ مُتَنَزِّلًا مِنْ أَعْلَى مَدَارِجِ میں نظر غور کی سو وہ اسلام کی طرف دوڑا اور ایمان الْكَمَالِ فِي فَصَاحَةِ الْمَقَالِ وَبَلَاغَةِ الْأَقْوَالِ، والوں میں داخل ہوا۔ پس اگر قرآن فصاحت لَكَانَ الْأَمْرُ أَسْهَلَ عَلَى الْمُخَالِفِينَ وَلَقَالُوا اور بلاغت کے اعلیٰ مدارج سے متنزل ہوتا تو مخالفوں أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّ الْكَلَامَ الَّذِي عَرَضْتَ عَلَيْنَا یہ پر بات بہت آسان ہو جاتی۔ اور وہ کہہ سکتے تھے وَالْحَدِيثَ الَّذِي أَتَيْتَهُ لَدَيْنَا لَيْسَ بِفَصِيحِ کہ اے مرد! جو کلام تو نے پیش کی ہے اور جو بات تو بَلْ لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَا تَجِدُ فِيْهِ غَيْرَ الْمَعَانِي لایا ہے وہ فصیح نہیں ہے بلکہ صیح بھی نہیں ہے اور اس الْمَطْرُوقَةِ الْمَوَارِدِ وَالْكَلَامِ الرَّقِيقِ الْبَارِدِ میں معانی مطروقة الموارد پائے جاتے ہیں اور اس وَ مَا جِئْتَ بِأَطْيَبَ وَأَحْلى، وَفِيهِ أَلْفَاظُ كَذَا میں الفاظ رقیق موجود ہیں اور تُو نے اپنی کلام میں وَكَذَا، وَإِنَّكَ أَسْقَطتَ فِي كَلَامِكَ وَبَاعَدْتَ غلطی کی ہے اور مطلب سے دور جا پڑا ہے اور کوئی عَنْ مَرَامِكَ، وَلَسْتَ مِنَ الْمُجِيدِينَ، فَلَا نکتہ تیری کلام میں نہیں بلکہ اس میں تو ایسے ایسے لفظ حَاجَةَ إِلى أَن نَّا لِي بِمِثْلِهِ مِنَ الْأَقْوَالِ، أَوْ ہیں پس کچھ حاجت نہیں کہ ہم اس کی کوئی نظیر بناویں