تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 89

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۹ سورة البقرة کہ بہتا ہوا چلا جاتا ہے اور پھر اُس کی روحانی تا شیروں کو دل میں سوچے کہ جو بطور خارق عادت دلوں کو ظلمات بشریت سے صاف کر کے مورد انوار حضرت الوہیت بناتی ہیں جن کو ہم اس کتاب کے ہر موقعہ پر ثابت کرتے چلے جاتے ہیں تو اُس پر قرآن شریف کی شان بلند جس سے انسانی طاقتیں مقابلہ نہیں کر سکتیں ایسی وضاحت سے کھل سکتی ہے جس پر زیادت متصور نہیں اور اگر با وجود مشاہدہ ان کمالات کے پھر بھی کسی کو ر باطن پر عدیم المثالی اُس کلام مقدس کی مشتبہ رہے تو اُس کا علاج قرآن شریف نے آپ ہی ایسا کیا ہے جس سے کامل طور پر منکرین پر اپنی حجت کو پورا کر دیا ہے اور وہ یہ ہے وَ اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكُفِرِينَ (البقرة : ۲۵۰۲۳)۔یعنی اگر تمہیں اس کلام کے منجانب اللہ ہونے میں کچھ شک ہے تو تم اس کے کسی سورہ کی مانند کوئی کلام بنا کر دکھاؤ اور اگر تم بنا نہ سکو اور یا درکھو کہ ہرگز بنا نہ سکو گے سو اُس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے طیار ہے۔جس کا ایندھن کا فرآدمی اور ان کے بت ہیں جو نار جہنم کو اپنے گناہوں اور شرارتوں سے افروختہ کر رہے ہیں۔یہ قول فیصل ہے کہ جو خدائے تعالیٰ نے منکرین اعجاز قرآنی کے ملزم کرنے کے لئے آپ فرما دیا ہے۔اب اگر کوئی ملزم اور لاجواب رہ کر پھر بھی قرآن شریف کی بلاغت بے مثل سے منکر ر ہے اور بیہودہ گوئی اور ژاژخائی سے باز نہ آوے تو ایسے بے حیا مُنقَلِبُ الفِطرت کا اس دنیا میں علاج نہیں ہو سکتا اس کے لئے وہی علاج ہے جس کا خدا نے اپنے قول فیصل میں وعدہ فرمایا ہے۔بر این احمدیہ چهار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۰ تا ۶ ۶۵ حاشیہ نمبر ۱۱) یعنی اے منکرین ! اگر تم اس کلام کے بارہ میں جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے کچھ شک میں ہو یعنی اگر تم اس کو خدا کا کلام نہیں سمجھتے اور ایسا کلام بنانا انسانی طاقت کے اندر خیال کرتے ہو تو تم بھی ایک سورت جو انہیں ظاہری باطنی کمالات پر مشتمل ہو بنا کر پیش کرو۔اور اگر تم نہ بنا سکو اور یا درکھو کہ ہرگز بنانہیں سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن پتھر ( بت ) اور آدمی ہیں یعنی بت اور مشرک اور نافرمان لوگ ہی اس آگ کے بھڑکنے کا موجب ہورہے ہیں۔اگر دنیا میں بت پرستی و شرک و بے ایمانی و نافرمانی نہ ہوتی تو وہ آگ بھی افروختہ نہ ہوتی تو گویا اس کا ایندھن یہی چیزیں ہیں جو علت موجبہ اُس کے افروختہ ہونے کی ہیں۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۲، ۶۳ حاشیه ) أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ الْقُرْآنَ مَا ادَّعَى إِعْجَارَ کیا تجھے معلوم نہیں کہ قرآن نے اعجاز بلاغت کا