تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 85

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا امید رکھیں ۔ ۸۵ سورة البقرة اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۵) ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اُسے جو کچھ قیامت کو کرنا ہے وہ اسی در اسی دنیا میں کر کے دکھا سکتا تھا ۔ کیونکہ وہ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر ہے مگر پھر ایمان، ایمان نہ رہتا اور نہ اس کے ثمرات میسر ہوتے ۔ جو لوگ ایمان کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اس کو نہیں سمجھ سکتے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت کچھ نہ کچھ خفی رہنا ضروری ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱ مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱) بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ہے۔ اس واسطے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جھوٹ بولے۔ ایسا اعتقاد بے ادبی میں داخل ہے۔ ہر ایک امر جو خدا تعالیٰ کے وعدہ اس کی ذات جلال اور صفات کے برخلاف ہے وہ اس کی طرف منسوب کرنا بڑا گناہ ہے۔ جو امر اس کی صفات کے بر خلاف ہے ان کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں ۔ ( بدر جلد ا نمبر ۲۴ مورخه ۱۴ استمبر ۱۹۰۵ ء صفحه (۲) غور کرو کہ جس قادر خدا نے انسان کو ایسے ایسے انقلابات میں سے گزار کر انسان بنا دیا ہے اور اب ایسا انسان ہے کہ گویا عقل حیران ہے کہ کیا سے کیا بن گیا۔ ناک منہ اور دوسرے اعضا پر غور کرو کہ خدا تعالیٰ نے اسے کیا بنایا ہے پھر اندرونی حواس خمسہ دیئے اور دوسرے قومی اور طاقتیں اس کو عطا کیں ۔ پس جس خدائے قادر نے اس زمانہ سے جو یہ نطفہ تھا عجیب تصرفات سے انسان بنا دیا۔ کیا اس کے لئے مشکل ہے کہ اس کو پاک حالت میں لے جاوے اور جذبات سے الگ کر دے؟ جو شخص ان باتوں پر غور کرے گا وہ بے اختیار ہو کر کہہ اُٹھے گا ۔ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۶ صفحه (۳) يأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمُ وَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَ السَّمَاءَ بِنَاءِ وَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَ أَنْتُمْ تعلمون ۔ اے لوگو! تم اس خدائے واحد لاشریک کی پرستش کرو جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا۔ چاہئے کہ تم اس قادر توانا سے ڈرو جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا اور آسمان کو تمہارے لئے چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر طرح طرح کے رزق تمہارے لئے پھلوں میں سے پیدا کئے ۔ سو تم دیدہ دانستہ