تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 73
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۳ سورة الفاتحة یہیں سے رڈ ہو جاتا ہے۔ مگر میں اسے چھیڑ نا نہیں چاہتا ۔ غرض خدا کی بے شمار نعمتیں ہیں جن کو کسی ترازو میں تول نہیں سکتے ضروری طور سے ماننا پڑتا ہے کہ خدا رحمان ہے۔ ہمارے اس ملک میں بہت قسم کے فرقے ہیں کہ جو کچھ انسان کو عطا کیا گیا وہ کسی گزشتہ کرم کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ جو کچھ ہے۔ یہ خدا کے فضل اور اس کی رحمانیت نے مہیا ( کیا ) ہے کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میرے اعمال کا عوض ہے۔ البدر نمبر ۲۵ جلدی مؤرخہ ۲۵ جون ۱۹۰۸ء صفحہ (۳) فرمایا هو الرحمن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کی پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میسر کرتا ہے۔ جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزو چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔ اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے۔ اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ الرحیم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے کہلاتا ہے۔ اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔ سے رحیم اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۳) اللہ تعالیٰ کے دو نام ہیں ایک رحمن دوسرا رحیم ۔ رحمن تو یہی ہے کہ فطرت عمدہ اور مناسب حال اہل اللہ کے عطا کرتا ہے اور رحیم یہ کہ جب یہ خدا تعالیٰ کے عطا کردہ قوی سے کام لے تو اس پر نیک نتائج مترتب کر دیتا ہے۔ رحیمیت کے نیچے آ کر کوشش کرنا اس کا فرض ہو جاتا ہے۔ اس لئے فرمایا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - (العنكبوت : ٧٠) الحکم نمبر اول جلدے مؤرخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲) الرحمن وہی ہے جس کی رحمتیں بے بدلہ ہیں مثلاً انسان کا کیا عذر تھا اگر اللہ تعالیٰ اسے کتا بنا دیتا تو کیا یہ کہہ سکتا تھا کہ اے اللہ میر افلاں عمل نیک تھا اس کا بدلہ تو نے نہیں دیا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مؤرخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۶) الرحيم اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کے بدلہ نیک نتیجہ دیتا ہے جیسا کہ نماز پڑھنے والا روزہ رکھنے والا صدقہ دینے والا دنیا میں بھی رحم پاوے گا اور آخرت میں بھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبة: (۱۲۰) اور دوسری جگہ فرماتا ہے فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَةً وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَة (الزلزال: ۹۸) یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جو کوئی ذرہ سی بھی بھلائی کرتا البدر نمبر ۲۴ جلد ۲ مورخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ (۱۸۶) ہے وہ اس کا بدلہ پالیتا ہے۔