تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 71

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ال سورة الفاتحة بت پرست بھی وجودیوں کی طرح اپنے بتوں کی مظاہر ہی مانتے ہیں۔ قرآن شریف اس مذہب کی تردید کرتا ہے۔ وہ شروع ہی میں یہ کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اگر مخلوق اور خالق میں کوئی امتیاز نہیں بلکہ دونوں برابر اور ایک ہیں تو رب العالمین نہ کہتا اب عالم تو خدا تعالیٰ میں داخل نہیں ہے کیونکہ عالم کے معنے ہیں مَا يُعْلَمُ بِہ اور خدا تعالیٰ کے لئے لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (الانعام : ۱۰۴ ) ۔ الحكم جلد ۶ نمبر ۲۸ مؤرخه ۱۰ را گست ۱۹۰۲ صفحه ۸ ۔ ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۳۰) قَدْ عَرَفْتَ أَنَّ اللهَ بِصِفَةِ الرَّحْمٰنِ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت يُنَزِّلُ عَلَى كُلِّ عَبْدِمِنَ الْإِنْسَانِ وَ کے نتیجہ میں ہر مخلوق پر وہ انسان ہو یا حیوان ، کافر ہو یا الْحَيَوَانِ وَالْكَافِرِ وَ أَهْلِ الْإِيمَانِ أَنْوَاعِ مؤمن ہر قسم کے احسانات اور افضال ایسے عمل کے بغیر الْإِحْسَانِ وَ الْاِمْتِنَانِ بِغَيْرِ عَمَلٍ نازل فرماتا ہے جو ان کو جزا دینے والے خدا کی بارگاہ میں يَجْعَلُهُمْ مُسْتَحِقِينَ فِي حَضْرَةِ الدَّيَّانِ إِذْ انعامات کا مستحق بنا دے اور بلاشبہ اس طرز کا احسان لَاشَكَ أَنَّ الْإِحْسَانَ عَلَى هَذَا الْمِنْوَالِ احسان کرنے والے کو فورا محبوب بنا دیتا ہے۔ پر ہے۔ پس ثابت يَجْعَلُ الْمُحْسِنَ مَحْبُوبًا فِي الْحَالِ فَثَبَّتَ أَنَّ ہوا کہ رحمانیت کے ماتحت فیض پہنچانا فیض حاصل کرنے الْإِفَاضَةَ عَلَى الطَّرِيقَةِ الرَّحْمَانِيَّةِ يُظْهِرُ فِي أَعْيُنِ الْمُسْتَفِيضِيْنَ شَأْنَ الْمَحْبُوبِيَّةِ والوں کی نظروں میں شان محبوبیت کو نمایاں کر دیتا ہے وَ أَمَّا صِفَةُ الرَّحِيمِيَّةِ فَقَدْ الْزَمَتْ ليكن صفت رحیمیت نے اپنے آپ کو شانِ محبیت کے نَفْسَهَا شَأْنَ الْمُحِبِيَّةِ فَإِنَّ اللهَ لَا تَتَجَلَّى * ساتھ لازم کر دیا ہے اور اللہ تعالی اس فیضان کے ساتھ کسی عَلَى أَحَدٍ بِهَذَا الْفَيْضَانِ إِلَّا بَعْدَ أَنْ تُحِبَّهُ مؤمن پر اسی وقت تجلی فرماتا ہے۔ جب وہ اس سے محبت وَيَرْضَى بِهِ قَوْلًا وَ فِعْلًا مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانَ کرنے لگے اور اس پر اپنے قول اور فعل سے اپنی (اعجاز المسیح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۱۰۰٬۹۹ حاشیہ) خوشنودی کا اظہار کرے۔ ( ترجمہ از مرتب ) قَالَ اللهُ تَعَالَى وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ اے نبی ! ہم رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ * * * وَلَا يَسْتَقِيمُ هَذَا نے تمہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ آپ الْمَعْنَى إِلَّا فِي الرَّحْمَانِيَّةِ فَإِنَّ الرَّحِيمِيَّةَ كا رحمة للعالمین ہونا صفت رحمانیت کے لحاظ سے ہی يَخْتَصُّ بِعَالَمٍ وَاحِدٍ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ۔ درست ہو سکتا ہے۔ کیونکہ رحیمیت تو صرف مومنوں اعجاز مسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۸ حاشیہ) کی دنیا کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) سہو کتابت ہے درست یتجلی ہے (ناشر) ** (الانبیاء : ۱۰۸)