تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 71
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة بت پرست بھی وجودیوں کی طرح اپنے بتوں کی مظاہر ہی مانتے ہیں۔قرآن شریف اس مذہب کی تردید کرتا ہے۔وہ شروع ہی میں یہ کہتا ہے اَلْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اگر مخلوق اور خالق میں کوئی امتیاز نہیں بلکہ دونوں برابر اور ایک ہیں تو رب العالمین نہ کہتا اب عالم تو خدا تعالیٰ میں داخل نہیں ہے کیونکہ عالم کے معنے ہیں مايُعْلَمُ بِہ اور خدا تعالیٰ کے لئے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (الانعام : ۱۰۴)۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مؤرخه ۱۰ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۸۔ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۳۰) قَد عَرَفْتَ أَنَّ اللَّهَ بِصِفَةِ الرَّحْمَنِ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی اپنی صفت رحمانیت يُنَزِّلُ عَلَى كُلِّ عَبْدِمِّنَ الْإِنْسَانِ وَ کے نتیجہ میں ہر مخلوق پر وہ انسان ہو یا حیوان ، کافر ہو یا الْحَيَوَانِ وَالْكَافِرِ وَ اَهْلِ الْإِيْمَانِ انْوَاعِ مؤمن ہر قسم کے احسانات اور افضال ایسے عمل کے بغیر الْإِحْسَانِ وَ الْاِمْتِنَانِ بِغیر عمل نازل فرماتا ہے جو ان کو جزا دینے والے خدا کی بارگاہ میں يَجْعَلُهُمْ مُسْتَحِقِينَ في حَضْرَةِ الشَّيَانِ اذ انعامات کا مستحق بنا دے اور بلاشبہ اس طرز کا احسان لامكَ أَنَّ الْإِحْسَانَ عَلى هَذَا الْمِنْوَالِ احسان کرنے والے کو فورا محبوب بنادیتا ہے۔پس ثابت يَجْعَلُ الْمُحْسِنَ مَحْبُوبًا فِي الْحَالِ فَقَبتَ أَنَّ ہوا کہ رحمانیت کے ماتحت فیض پہنچانا فیض حاصل کرنے الْإِفَاضَةَ عَلَى الطَّرِيقَةِ الرَّحْمَانِيَّةِ يُظهِرُ والوں کی نظروں میں شان محبوبیت کو نمایاں کر دیتا ہے فِي أَعْيُنِ الْمُسْتَفِيْضِيْنَ شَأْنَ الْمَحْبُوبِيَّةِ - ليکن صفت رحیمیت نے اپنے آپ کو شان محبیت کے وَأَمَّا صِفَةُ الرَّحِيمِيَّةِ فَقَدْ الْزَمَتْ نَفْسَهَا شَأْنَ الْمُحِبْيَّةِ فَإِنَّ اللهَ لا تتجلى * ساتھ لازم کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس فیضان کے ساتھ کسی عَلى أَحَدٍ بِهذَا الْقَيْضَانِ إِلَّا بَعْد أن تحبه مؤمن پر اسی وقت محلی فرماتا ہے۔جب وہ اس سے محبت وَيَرْضَى بِهِ قَوْلًا وَ فِعْلًا مِنْ أَهْلِ الْإِيمَان کرنے لگے اور اس پر اپنے قول اور فعل سے اپنی (اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۹۹ ۱۰۰ حاشیہ خوشنودی کا اظہار کرے۔(ترجمہ از مرتب) قَالَ اللهُ تَعَالَى وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا الله تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔اے نبی ! ہم رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ * * " وَلَا يَسْتَقِيمُ هَذَا نے تمہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔آپ * * الْمَعْلى إلَّا فِي الرَّحْمَانِيَّةِ فَإِنَّ الرَّحِيمِيَّةَ كارحمة للعالمين ہونا صفت رحمانیت کے لحاظ سے ہی يَخْتَصُّ بِعَالَمٍ وَاحِدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔درست ہوسکتا ہے۔کیونکہ رحیمیت تو صرف مومنوں (اعجاز مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۱۸ حاشیہ) کی دنیا کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔(ترجمہ از مرتب) سہو کتابت ہے درست يتجلّی ہے (ناشر) ** (الانبیاء : ۱۰۸)