تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page ix
iv نمبر شمار مضمون صفحه ۵۵ ۵۶ ۵۷ قرآن شریف کے شروع میں صفت رحمانیت اور رحیمیت کے ذکر میں حکمت خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد کی ضرورت بعض اوقات استمداد کے لئے دعا قبول نہ کئے جانے میں حکمت لدا لدا ۵۸ ۵۹ ۶۰ ٦١ ۶۲ بسم اللہ پر ایک اعتراض اور اس کا جواب صفت الرحمن کو صفت الرحیم پر مقدم کیوں کیا گیا ہے بسم اللہ میں اسم کا اشتقاق وسم سے اسم شے کی اصل حقیقت کے لئے بطور ظل کے ہوتا ہے ۴۳ ۴۳ ۴۶ ۴۶ ۴۷ ۶۳ صفت رحمانیت اور رحیمیت کا مابہ الامتیاز اس سوال کا جواب کہ اللہ تعالیٰ نے بسم اللہ میں صرف اپنی لد ما ولد ٧ دو صفات کا ذکر کیوں کیا ہے ۵۰ ۵۳ ولد ۵۸ ۵۸ ٦١ ۶۲ ۷۰ ٧٠ ٧٠ ۶۴ ۶۵ ५५ ۶۷ ٦٨ ۶۹ ا ۷۰ ۷۲ آنحضرت کی ذات میں ہر دو صفات رحمانیت اور رحیمیت کا اجتماع آنحضرت کا نام محمد صفت رحمانیت کے تحت اور احمد نام صفت رحیمیت کے تحت آنحضرت کے صحابہ رحمانی اور جلالی شان کی بنا پر اسم محمد کے مظہر مسیح موعود اسم احمد کے مظہر اور جمالی شان رکھنے والے اللہ کا لفظ اسم جامد ہے صفت رحمانیت اور رحیمیت ذات الہی کے بھید کی مظہر ہیں پارسیوں کے فقرہ بنام ایزدبخشایندہ اور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں عظیم فرق اللہ کا نام خدا تعالیٰ کے لئے اسم اعظم ہے اللہ کے لفظ کا اطلاق اس ہستی پر ہوتا ہے جو تمام نقائص سے منزہ اور تمام صفات کا ملہ سے متصف ہے