تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page ix of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page ix

صفحہ ۴۲ ۴۲ ۴۳ ۴۳ } } ۴۶ ۴۷ ۴۹،۴۸ ۵۳ ۵۴ ۵۸ ۵۸ ۶۱ ۶۲ iv مضمون نمبر شمار قرآن شریف کے شروع میں صفت رحمانیت اور رحیمیت کے ذکر میں حکمت خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد کی ضرورت ۵۷ بعض اوقات استمداد کے لئے دعا قبول نہ کئے جانے میں حکمت ۵۸ بسم اللہ پر ایک اعتراض اور اس کا جواب ۵۹ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ ۷۲ صفت الرحمن کو صفت الرحیم پر مقدم کیوں کیا گیا ہے بسم اللہ میں اسم کا اشتقاق وسم سے اسم شے کی اصل حقیقت کے لئے بطور ظل کے ہوتا ہے صفت رحمانیت اور رحیمیت کا ما بہ الامتیاز اس سوال کا جواب کہ اللہ تعالیٰ نے بسم اللہ میں صرف اپنی دوصفات کا ذکر کیوں کیا ہے آنحضرت کی ذات میں ہر دو صفات رحمانیت اور رحیمیت کا اجتماع آنحضرت کا نام محمد صفت رحمانیت کے تحت اور احمد نام صفت رحیمیت کے تحت آنحضرت کے صحابہ رحمانی اور جلالی شان کی بنا پر اسم محمد کے مظہر سیح موعود اسم احمد کے مظہر اور جمالی شان رکھنے والے اللہ کا لفظ اسم جامد ہے صفت رحمانیت اور رحیمیت ذات الہی کے بھید کی مظہر ہیں پارسیوں کے فقرہ بنام ایزدبخشایندہ اور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ میں عظیم فرق اللہ کا نام خدا تعالیٰ کے لئے اسم اعظم ہے اللہ کے لفظ کا اطلاق اس ہستی پر ہوتا ہے جو تمام نقائص سے منزہ اور تمام صفات کا ملہ سے متصف ہے