تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 65
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة الرَّحِيمِيَّةِ وَكَانَ قَدَرًا مُقَدِّرًا مِّن کے چشمہ سے پیا جو حقیقت رحیمیت پر پر مشتمل ہے۔اور الْإِبْتِدَاءِ وَ وَعْدًا مَّوْقُوتًا جَارِيًّا عَلى ابتدا سے یہی الہی تقدیر اور مقرر وعدہ تھا۔جو انبیاء کی أَلْسُنِ الْأَنْبِيَاءِ۔إِنَّ اسْمَ أَحْمد لا تتجلى زبانوں پر جاری تھا کہ صفت احمد کی کامل تجلی اس کے يتجلى تام في أَحَدٍ مِنَ الْوَارِثِينَ إِلا في وارثوں میں سے مسیح موعود کے سوا کسی پر نہ ہوگی جسے اللہ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ الَّذِي يَأْتي الله به تعالى ( اس دنیا میں ) جزا سزا کا دن طلوع ہونے اور مومنوں بِهِ عِنْدَ طُلُوعِ يَوْمِ الدِّينِ وَحَشر کے جمع کئے جانے کے وقت مبعوث فرمائے گا۔اس دن الْمُؤْمِنِينَ وَيَرَى اللهُ الْمُسْلِمِينَ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کمزور اور اسلام کو اس بچے کی طرح كَالضُّعَفَاءِ وَالْإِسْلَام كَصَبِي نُبِ پائے گا جسے جنگل میں پھینک دیا گیا ہو۔تب ان کے لئے بِالْعَرَاءِ۔فَيَفْعَلُ لَهُمْ أَفَعَالا تین اپنے ہاں سے بہت سے کام بروئے کار لائے گا اور ان کی لَّدُنْهُ وَيَنْزِلُ لَهُمْ مِنَ السَّمَاءِ فَهُنَاكَ خاطر خود آسمان سے اتر آئے گا۔اس وقت زمین پر بھی تَكُونُ لَهُ السَّلْطَنَةُ فِي الْأَرْضِ كَمَا هِی ویسے ہی اس کی (روحانی) بادشاہت قائم ہو جائے گی جیسا في الْأَفْلَاكِ وَعَهْلِكَ الْأَبَاطِيْلُ مِن کہ آسمانوں پر ہے (لوگوں کی گردنیں اڑائے بغیر تمام غَيْرِ ضَرْبِ الْأَعْتَاقِ وَ تَنقطع باطل مٹ جائیں گے اور (کفر کے) سب ذرائع کٹ الْأَسْبَابُ كُلُهَا وَ تُرْجَعُ الْأُمُورُ إِلى جائیں گے۔اور تمام امور بادشاہوں کے بادشاہ (خدا مَالِكِ الْأَمْلاكِ وَعْدٌ مِّنَ اللهِ حَق تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائیں گے۔یہ اللہ کا سچا وعدہ اسی كَمِثْلِ وَعْدٍ تَمَّ في آخِرِ زَمَنِ بینی وعدہ کی مانند ہے جو بنی اسرائیل کے آخری زمانہ میں پورا إِسْرَائِيلَ إِذْ بُعِكَ فِيْهِمْ عِيسَی بْنُ ہوا جب ان میں حضرت عیسی علیہ السلام مبعوث ہوئے مَرْيَمَ فَأَشَاعَ الدِّيْنَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَقْتُلَ اور آپ نے خدا تعالیٰ کے نافرمانوں کو قتل کئے بغیر دین مَنْ عَصَى الرَّبَّ الْجَلِيْلَ۔وَكَانَ في قَدَر کی اشاعت کی۔عالم الغیب اور عالی مرتبہ خداوند کی تقدیر الله الْعَلِي الْعَلِيمِ۔أَنْ تَجْعَلَ آخِرَ هَذِهِ میں یہی تھا کہ وہ اس امت محمدیہ کے سلسلہ کے آخری حصہ کو السّلْسِلَةِ كَاخِرِ خُلَفَاءِ الْكَلِيْم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلفاء کے آخری حصہ کی طرح فَلِأَجْلِ ذَالِكَ جَعَلَ خَاتِمَةَ أَمْرِهَا بنائے اس لئے اس (انت) کے انجام کو انسانی مددگاروں یہاں زمانہ مسیح موعود کو یوم حشر قرار دیا گیا ہے۔(مترجم)