تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 61

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٦١ سورة الفاتحة الْإِسْمَ وَلِمَنْ تَبِعَهُ وَصَارَ لَهُ كَالالِ سمیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی صفت رحیمیت اور ،، فَالْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَعَ جَمَاعَتِهِ مَظْهَرٌ مِنَ احمدیت کا مظہر ہے ۔ تا خدا کا قول ” وَ آخَرِيْنَ مِنْهُم 66 اللهِ لِصِفَةِ الرَّحِيمِيَّةِ وَالْأَحْمَدِيَّةِ لِيَتِمَّ (الجمعة: (۴) پورا ہو (یعنی صحابہ جیسی ایک اور قوم بھی ہے قَوْلُهُ وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ * وَلَا رَادَّ جو ابھی ان سے نہیں ملی ) اور الہی ارادوں کو پورا ہونے لِلْإِرَادَاتِ الرَّبَّانِيَّةِ وَلِيَتِمَّ حَقِيقَةُ سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نیز رسول مقبول صلی اللہ علیہ الْمَظَاهِرِ النَّبَوِيَّةِ وَهَذَا هُوَ وَجْهُ وَسلم کے مظاہر پیدا ہونے کی حقیقت پوری طرح واضح تَخْصِيصِ صِفَةِ الرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ ہو جائے ۔ صفت رحمانیت و رحیمیت کو بسم اللہ کے ساتھ بِالْبَسْمَلَةِ لِيَدُلُّ عَلَى اسْمَى مُحَمَّدٍ وَأَحْمَدَ وَ وابستہ کرنے کی یہی وجہ ہے تا وہ محمد واحمد دونوں ناموں مَظَاهِرِ هِمَا الْآتِيَةِ أَعْنِي الصَّحَابَةَ پر اور ان دونوں کے آئندہ آنے والے مظاہر پر وَمَسِيحَ اللهِ الَّذِي كَانَ آتِيَا فِي حُلَلِ دلالت کرے یعنی صحابہ اور مسیح موعود پر جو رحیمیت اور الرَّحِيمِيَّةِ وَالْأَحْمَدِيَّةِ ثُمَّ نُكَرِّرُ خُلاصَة احمدیت کے لباس میں آنے والے تھے۔ اب ہم الْكَلَامِ فِي تَفْسِيرِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ کی تفسیر کا خلاصہ دوبارہ الرَّحِيمِ 66 بیان کرتے ہیں ۔ فَاعْلَمْ أَنَّ اسْمَ اللهِ اسْم جَامِدٌ لا پس واضح ہو کہ اللہ کا لفظ اسم جامد ہے اور اس کے يَعْلَمُ مَعْنَاهُ إِلَّا الْخَبِيرُ الْعَلِيمُ وَ قَدْ معنے سوائے خدائے خبیر و علیم کے اور کوئی نہیں جانتا۔ اور أَخْبَرَ عَزَّ اسْمُهُ بِحَقِيقَةِ هَذَا الْإِسْمِ فِي هَذِهِ الله تعالى عزّ اسمه نے اس آیت میں اس اسم کی حقیقت الْآيَةِ وَأَشَارَ إِلى أَنَّهُ ذَاتُ مُتَّصِفَةٌ بتائی ہے اور اشارہ کیا ہے کہ اللہ اس ذات کا نام ہے بِالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ أَي مُتَّصِفَةٌ جو رحمانیت اور رحیمیت کی صفات سے متصف ہے یعنی بِرَحْمَةِ الْإِمْتِنَانِ وَ رَحْمَةٍ مُّقَيَّدَةٍ بِالْحَالَةِ ( بلا استحقاق ) احسان والی رحمت اور ایمانی حالت سے الْإِيمَانِيَّةِ وَهَاتَانِ رَحْمَتَانِ كَمَاءٍ أَصْفى وابستہ رحمت ہر دورحمتوں سے ( وہ ذات ) متصف ہے۔ وَغِذَاءٍ أَحْلَى مِنْ مَّنْبَعِ الرُّبُوْبِيَّةِ وَكُلُّ مَا یہ دونوں رحمتیں صاف پانی اور شیریں غذا کی مانند ہیں جو هُوَ دُوْنَهُمَا مِنْ صِفَاتٍ فَهُوَ كَشُعَبٍ لِهَذِهِ ربوبیت کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور ان دونوں کے علاوہ الصَّفَاتِ وَالْأَصْلُ رَحْمَانِيَّةٌ وَ رَحِيمِيَّةٌ و باقی تمام صفات ان دو صفات کے لئے بمنزلہ شاخوں کے الجمعة : ۴