تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 58
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸ سورة الفاتحة وَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ دَنَا اور اللہ تعالیٰ نے آیت دَنَا فَتَدَلی اور آیت قَابَ فَتَدَلَّى وَفِي قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى * قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی میں اسی (محبوبیت اور محبیت کے ثُمَّ لَمَّا كَانَ يُظَنُّ أَنَّ اخْتِصَاصَ هَذَا مضمون ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر چونکہ یہ گمان پیدا ہو النَّبِي المُطاعِ الشَّجَادِ بِهَذِهِ الْمَحَامِدِ سکتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو لوگوں کے مطاع اور مِن رَّبِّ الْعِبَادِ يَجْرُ إِلَى الشَّرْكِ كَمَا عُبِدَ اللہ تعالیٰ کے بہت عبادت گزار ہیں پروردگار عالم کا ان دو عِيسَى لِهَذَا الْاعْتِقَادِ أَرَادَ اللهُ أَنْ يُورِ فَهُمَا صفات سے متصف کرنا لوگوں کو شرک کی طرف مائل کر سکتا الْأُمَّةَ الْمَرْحُومَةَ عَلَى الطَّرِيقَةِ الظُّلْيَّةِ ہے ۔ جیسا کہ ایسے ہی اعتقاد کی بنا پر حضرت عیسی کو معبود بنالیا لِيَكُونَا لِلْأُمَّةَ كَالْبَرَكَاتِ الْمُتَعَدِيَّةِ وَ گیا ۔ سو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ وہ امت مرحومہ کو بھی (علی لِيَزُولَ وَ هُمُ اشْتِرَاكِ عَبْدٍ خَاصٌ فِي حسب مراتب ) ظلّی طور پر ان دونوں صفات کا وارث الصَّفَاتِ الْإِلَهِيَّةِ فَجَعَلَ الصَّحَابَةَ وَ بنا دے۔ تا یہ دونوں نام اُمت کیلئے برکات جاریہ کا موجب مَنْ تَبِعَهُمْ مَظْهَرَ اسْمِ مُحَمَّدٍ بِالشُّؤُونِ بنیں اور تا صفات الہیہ میں کسی خاص بندہ کے شریک ہونے الرَّحْمَانِيَّةِ الْجَلَالِيَّةِ۔ وَجَعَلَ لَهُمْ غَلَبَةً کا وہم بھی دور ہو جائے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ وَ نَصَرَهُمْ بِالْعِنَايَاتِ الْمُتَوَالِيَةِ وَ اور بعد آنے والے مسلمانوں کو رحمانی اور جلالی شان کی بنا پر جَعَلَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ مَظْهَرَ اسْمِ أَحْمَدَ اسم محمد کا مظہر بنایا اور انہیں غلبہ عطا فرمایا۔ اور متواتر عنایات وَبَعْثَهُ بِالشُّؤُونِ الرَّحِيمِيَّةِ الْجَمَالِيَّةِ وَ سے ان کی مدد کی اور مسیح موعود کو اسم احمد کا مظہر بنایا اور اُسے كَتَبَ فِي قَلْبِهِ الرَّحْمَةَ وَ التَّحَتُنَ وَ هَذَّبَهُ رحیمی اور جمالی صفات کے ساتھ مبعوث فرمایا اور اس کے بِالْأَخْلَاقِ الْفَاضِلَةِ الْعَالِيَةِ فَذَالِكَ دل میں رحمت اور شفقت رکھ دی اور اُسے بلند اخلاق فاضلہ هُوَ الْمَهْدِيُّ الْمَعْهُودُ الَّذِي فِيهِ کے ساتھ آراستہ کیا۔ اور وہی مہدی معہود ہے جس کے يَخْتَصِمُونَ وَقَدْ رَأَوُا الْآيَاتِ ثُمَّ لا بارے میں لوگ جھگڑتے ہیں اور جس کی صداقت کے يَهْتَدُونَ وَ يُصِرُونَ عَلَى الْبَاطِلِ وَ إِلَی نشانات دیکھ کر بھی سچائی کو قبول نہیں کرتے اور باطل پر الْحَقِّ لَا يَرْجِعُونَ۔ وَذَالِكَ هُوَ الْمَسِيحُ اصرار کرتے ہیں اور حق کی طرف رجوع نہیں کرتے یہ الْمَوْعُودُ وَ لكِنَّهُمْ لَا يَعْرِفُونَ وَ وہی مسیح موعود ہے لیکن لوگ اسے نہیں پہچانتے اور ظاہری يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ فَإِنَّ آنکھوں سے تو اسے دیکھتے ہیں لیکن بصیرت کی آنکھ النجم : ١٠٠٩