تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 58

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸ سورة الفاتحة 66 دو وَقَد أَشَارَ إِلَيْهِ سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ دَنَا اور اللہ تعالیٰ نے آیت دَنَا فَتَدَلی اور آیت قَابَ فَتَدَى وَفِي قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدلی“ قَوْسَيْنِ اَوْ ادنی میں اسی ( محبوبیت اور محبیت کے ثُمَّ لَمَّا كَانَ يُظَنُّ أَنَّ اخْتِصاص هذا مضمون ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔پھر چونکہ یہ گمان پیدا ہو النّي الْمُطَاعِ السَّادِ بِندِهِ الْمَحَامِل سکتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو لوگوں کے مطاع اور مِنْ رَّبِّ الْعِبَادِ يَجْرُّ إِلَى الشركِ كَمَا عُبِدَ اللہ تعالیٰ کے بہت عبادت گزار ہیں پروردگار عالم کا ان دو عِيسَى لِهَذَا الْإِعْتِقَادِ أَرَادَ الله أَن يُورقهما صفات سے متصف کرنا لوگوں کو شرک کی طرف مائل کر سکتا الْأُمَّةَ الْمَرْحُوْمَةَ عَلَى الطَّرِيقَةِ الظَّليَّةِ ہے۔جیسا کہ ایسے ہی اعتقاد کی بنا پر حضرت عیسی کو معبود بنالیا لِيَكُونَا لِلأمة كالبَرَكَاتِ الْمُتَعَدِّيَّةِ وَ گیا۔سو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ وہ امت مرحومہ کو بھی (علی لِيَزُولَ وَ هُمُ اشْتِرَاكِ عَبْد خَاصٌ في حسب مراتب) ظلی طور پر ان دونوں صفات کا وارث الصِّفَاتِ الْإِلَهِيَّةِ۔فَجَعَلَ الصَّحَابَةَ و بنادے۔تا یہ دونوں نام اُمت کیلئے برکات جاریہ کا موجب مَنْ تَبِعَهُمْ مَظْهَرَ اسْمِ مُحَمَّدِ بِالشُّؤُونِ نہیں اور تا صفات الہیہ میں کسی خاص بندہ کے شریک ہونے الرَّحْمَادِيَّةِ الْجَلَالِيَّةِ وَجَعَلَ لَهُمْ غَلَبَةٌ کا وہم بھی دور ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ و نَصَرَهُمْ بِالْعِنَايَاتِ الْمُتَوَالِيَةِ وَ اور بعد آنے والے مسلمانوں کو رحمانی اور جلالی شان کی بنا پر جَعَلَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ مَظهَرَ اسم أحمد اسم محمد کا مظہر بنایا اور انہیں غلبہ عطا فرمایا۔اور متواتر عنایات وَبَعْتَه بِالشُّؤُونِ الرَّحِيمِيَّةِ الْجَمَالِية و سے ان کی مدد کی اور مسیح موعود کو اسم احمد کا مظہر بنایا اور اُسے كتب في قَلْبِهِ الرَّحْمَةَ وَالتَّعَتُنَ وَهَنَّبَهُ رحیمی اور جمالی صفات کے ساتھ مبعوث فرمایا اور اس کے بِالْأَخْلَاقِ الْفَاضِلَةِ الْعَالِيَةِ۔فَذَالِك دل میں رحمت اور شفقت رکھ دی اور اسے بلند اخلاق فاضلہ هُوَ الْمَهْدِى الْمَعْهُودُ الّذينى فيه کے ساتھ آراستہ کیا۔اور وہی مہدی معہود ہے جس کے يَختَصِمُونَ۔وَقَدْ رَأَوُا الْآيَاتِ ثُمَّ لَا بارے میں لوگ جھگڑتے ہیں اور جس کی صداقت کے يَهْتَدُونَ وَ يُصِرُونَ عَلَى الْبَاطِلِ وَ إِلَى نشانات دیکھ کر بھی سچائی کو قبول نہیں کرتے اور باطل پر الْحَقِ لَا يَرْجِعُونَ۔وَذَالِكَ هُوَ الْمَسِيحُ اصرار کرتے ہیں اور حق کی طرف رجوع نہیں کرتے یہ الْمَوْعُودُ وَلكِنَّهُمْ لا يَعْرِفُونَ وَ وہی مسیح موعود ہے لیکن لوگ اسے نہیں پہچانتے اور ظاہری يَنظُرُونَ إِلَيْهِ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ فَإِنَّ آنکھوں سے تو اسے دیکھتے ہیں لیکن بصیرت کی آنکھ النجم : ١٠٠٩