تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 57
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷ سورة الفاتحة وَمَا ذَكَرَ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ فِي الْبَسْمَلَةِ میں (ظلی طور پر ) شریک کیا ہے کیونکہ آپ پر اس کا بڑافضل إِلَّا لِيَعْرِفَ النَّاسُ أَنَّهُمَا لِله كَالا نم تھا اور اُس نے ان دونوں صفات کو بسم اللہ میں صرف اس لئے الْأَعْظَمِ وَلِلنَّبِيِّي مِن حَضْرَتِہ بیان کیا ہے تا لوگ سمجھ لیں کہ یہ دونوں صفتیں اللہ تعالیٰ کے لئے كَالْخِلْعَةِ فَسَمَّاهُ اللهُ مُحَمَّدًا إِشَارَةٌ إلى اسم اعظم کے طور پر ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مَا فِيْهِ مِنْ صِفَةِ الْمَحْبُوبِيَّةِ۔وَسَمادُ بارگاہِ ایزدی سے خلعت کے طور پر ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے أَحْمَدَ إِيْمَاء إِلى مَا فِيْهِ مِنْ صِفَةِ آپ کا نام محمد رکھا تا کہ اُس سے آپ کی صفت محبوبیت کی طرف الْمُحِثِيَّةِ أَمَّا مُحَمَّدٌ فَلِأَجْلِ أَنَّ رَجُلًا اشارہ کرے اور آپ کا نام احمد اس لئے رکھا کہ آپ کی صفتِ لا يَحْمَدُهُ الْحَامِدُونَ حَمَّدًا كَثِيرًا إِلَّا محبّیت کی طرف اشارہ ہو۔محمد نام اس لئے ہے کہ لوگ کسی بَعْدَ أَنْ يَكُونَ ذَالِكَ الرَّجُلُ مَحْبُوبا و شخص کی زیادہ تعریف تبھی کرتے ہیں جب وہ ان کے نزدیک أَمَّا أَحْمَدُ فَلِأَجْلِ أَنَّ حَامِدًا لَا يَحْمَدُ محبوب ہو اور احمد نام اس لئے ہے کہ کوئی شخص کسی کی زیادہ أَحَدًا بِحَمْلٍ كَاثِرِ إِلَّا الَّذِي يُحِبُّه و تعریف نہیں کرتا بجز اس شخص کے جس سے وہ محبت کرتا اور اُسے يَجْعَلُهُ مَطْلُوبًا فَلَا شَكَ أَنَّ اسْمَ مُحمد مطلوب بنا لیتا ہو۔اور یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ اسم محمد میں مُحَمَّدٍ يُوجَدُ فِيْهِ مَعْنَى الْمَحْبُوبِيَّةِ بدلالة بدلالت التزامی محبوبیت کے معنے پائے جاتے ہیں اسی طرح الْإِلْتِزَامِ۔وَ كَذَالِكَ يُوجَدُ فِي اسْمِ اسم احمد میں خدا تعالیٰ صاحب فضل و انعام کی طرف سے أَحْمَدَ مَعْنَى الْمُحِبّيَّةِ مِنَ اللهِ ذِی معنے محبّیت پائے جاتے ہیں۔پس بلاشبہ ہمارے نبی اکرم الْأَفْضَالِ وَالْإِنْعَامِ وَ لَا رَيْبَ أَن صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس لئے محمد رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ نَبِيَّنَا سُمَّى مُحَمَّدًا لَمَّا أَرَادَ اللهُ أَن فرمایا تھا کہ آپ کو اپنی نگاہ میں بھی اور صالح لوگوں کی نظر میں تَجْعَلَهُ مَحْبُوبًا في أَعْيُنِهِ وَ أَعْيُنِ بھی محبوب بنائے۔اور ایسا ہی آپ کا نام احمد اس لئے رکھا کہ الصَّالِحِيْنَ۔وَكَذَالِكَ سَماهُ أَحْمَدَ لَهَا الله تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ذات اور مومن أَرَادَ سُبْحَانَهُ أَنْ تَجْعَلَهُ مُحِب ذَاتِهِ وَ مسلمانوں سے محبت کرنے والے ہوں۔پس آپ ایک پہلو مُحِبَّ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْلِمِينَ۔فَهُوَ مُحَمَّد سے محمد ہیں اور ایک پہلو سے احمد ہیں۔اور ان دونوں ناموں بِشَأْنٍ وَ أَحْمَدُ بِشَأْنٍ وَاخْتَضَ أَحَدُ هَذَيْنِ میں سے ( ظہور کامل کے لحاظ سے ) ایک نام کو ایک زمانہ سے الْإِسْمَيْنِ بِزَمَانٍ وَ الْآخَرُ بِزَمَانٍ - مخصوص کیا گیا اور دوسرے نام کو دوسرے زمانہ سے۔