تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 53
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳ سورة الفاتحة الْمَحْبُوبِيَّةِ وَ بَعْضًا أَخَرَ حَظًّا كَثِيرًا اور اس کے فضلِ عظیم کے ساتھ آپس میں محبت سے زندگی بسر مِنْ صِفَةِ الْمُحِبِيَّةِ وَ كَذَالِكَ أَرَادَ کریں اُس نے ان میں سے بعض کو محبوبیت بوبیت کی صفت سے بِفَضْلِهِ الْعَمِيمِ وَجُودِهِ الْقَدِيمِ وَلَمَّا حِصّہ وافر عطا فرمایا اور بعض دوسروں کو صفت محبیت کا بہت جَاءَ زَمَنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَسَيِّدِنَا سَاحِصّہ دیا۔ اور اسی کا خدا تعالیٰ نے اپنے وسیع فضل اور دائمی مُحَمَّدٍ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ أَرَادَ هُوَ سُبْحَانَهُ کرم سے ارادہ فرمایا۔ اور جب ہمارے آقا سید المرسلین و أَنْ تَجْمَعَ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ فِي نَفْسٍ خاتم النبيين محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا تواللہ تعالیٰ کی پاک وَاحِدَةٍ فَجَمَعَهُمَا فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ أَلْفُ ذات نے ارادہ فرمایا کہ ان دونوں صفات کو ایک ہی شخصیت أَلْفِ صَلوةِ وَ تَحِيَّةٍ فَلِذَالِكَ ذَكَرَ میں جمع کر دے۔ چنانچہ اُس نے آنحضرت کی ذات میں تَخْصِيصًا صِفَةَ الْمَحْبُوبِيَّةِ وَ الْمُحِبِيَّةِ ( آپ پر ہزاروں ہزار درود اور سلام ہو) یہ دونوں صفات جمع عَلَى رَأْسِ هَذِهِ السُّورَةِ لِيَكُونَ إِشَارَةً کر دیں یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے شروع إِلَى هَذِهِ الْإِرَادَةِ وَسَلَّمی نَبِيَّنَا مُحَمَّدًا وَ میں صفت محبوبیت اور صفت محبیت کا خاص طور پر ذکر کیا أَحْمَدَ كَمَا سَمَّى نَفْسَهُ الرَّحْمَانَ وَ ہے تا اس سے خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کی طرف اشارہ ہو اور الرَّحِيمَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ فَهُذِهِ إِشَارَةُ اُس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد اور احمد رکھا۔ إِلَى أَنَّهُ لَا جَامِعَ لَهُمَا عَلَى الطَّرِيقَةِ جیسا کہ اُس نے اس آیت میں اپنا نام الر حمن اور الرحیم الظَّلِّيَّةِ إِلَّا وُجُودُ سَيِّدِنَا خَيْرِ الْبَرِيَّةِ رکھا ۔ پس یہ بات اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان دونوں وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ صفات کا ہمارے آقا فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور أَكْبَرُ الصَّفَاتِ مِنْ صِفَاتِ الْحَضْرَةِ کوئی جامع وجود نہیں۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ یہ دونوں الْأَحَدِيَّةِ بَلْ هُمَا لُبُّ اللُّبَابِ وَ صفات خدا تعالیٰ کی صفات میں سے سب سے بڑی صفات حَقِيقَةُ الْحَقَائِقِ لِجَمِيعِ أَسْمَائِهِ ہیں بلکہ یہ اس کے تمام صفاتی ناموں کے خلاصوں کا خلاصہ الصَّفَاتِيَّةِ وَهُمَا مِعْيَارُ كَمَالِ كُلِّ مَن اور حقیقتوں کی نچوڑ ہیں۔ یہ ہر اُس شخص کے کمال کا معیار ہیں اسْتَكْمَلَ وَ تَخَلَّقَ بِالْأَخْلَاقِ الْإِلَهِيَّةِ جو کمال کا طالب ہے اور اخلاق الہیہ کا رنگ اختیار کرتا ہے۔ وَمَا أُعْطِيَ نَصِيبًا كَامِلاً مِنْهُمَا إِلَّا پھر ان دونوں صفات میں سے کامل حصّہ صرف ہمارے نَبِيُّنَا خَاتَمُ سِلْسِلَةِ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ | نبی سلسلہ نبوت کے خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیا گیا ہے