تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 52
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲ سورة الفاتحة بَيْنَ مِنْ وَأَنْ يَكُونَ لَهُ مُحِيًّا مُوَاسِيَّا يَتَدَارَكُ عِنْدَ بچائے اور اس کی امیدوں کو پورا کرے پس خدا تعالیٰ الْأَهْوَالِ وَتَشَثْتِ الْأَحْوَالِ وَ يحفظها مِن نے ارادہ کیا کہ جو کچھ انسان کی فطرت تقاضا کرتی ضَيْعَةِ الْأَعْمَالِ وَ يُوْصِلُهَا إِلَى الْأَمَالِ ہے وہ اسے عطا کرے اور اپنی وسیع بخشش کے طفیل فَأَرَادَ اللهُ أَن يُعْطِيَهَا مَا اقْتَضَعُهَا وَيُتِمَّ اس پر اپنی نعمتوں کو پورا کرے۔سو اُس نے اپنی عَلَيْهَا نِعَمَهُ بِجُودِهِ الْعَمِيمِ۔فَتَجَلَّى عَلَيْهَا انہی دو صفات الرمحمن اور الرحیم کے ساتھ اس پر تحلی فرمائی۔يصِفَتَيْهِ الرَّحْمَنِ وَالرَّحِيْمِ۔وَلا رَيْبَ أَنَّ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ هُمَا الوُصْلَةُ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دونوں صفات بين الربوبيَّةِ وَالْعُبُودِيَّةِ وَ بِمَا يَتِه دَائِرَةُ ربوبیت اور عبودیت کے درمیان ایک واسطہ ہیں اور السُّلُوكِ وَالْمَعَارِفِ الْإِنْسَانِيَّةِ۔فَكُلُّ صِفَةٍ انہی دونوں کے ذریعہ انسانی معرفت اور سلوک کا دائرہ بَعْدَهُمَا دَاخِلَةٌ في أَلْوَارِهِمَا وَقَطرَةٌ من مکمل ہوتا ہے۔ان دونوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی باقی يُحَارِهِما ثُمَّ إِنَّ ذَات الله تَعَالى كَمَا تمام صفات انہی دو صفتوں کے انوار میں شامل ہیں اقْتَضَتْ لِنَفْسِهَا أَنْ تَكُونَ لِنَوْعِ الْإِنْسَانِ اور ان سمندروں کا ایک قطرہ ہیں۔پھر اللہ تعالی کی مَحْبُوبَةً وَ مُحِيَّةً كَذَالِكَ اقْتَضَتْ لِعِبَادِهِ ذات نے جس طرح اپنے لئے چاہا ہے کہ وہ نوع انسان الْكُمْلِ أَن يَكُونُوا لِبَنی نوعِهِمْ كَسِفْلِ کے لئے محبوب اور محب بنے اسی طرح اُس نے اپنے ذَاتِهِ خُلُقًا وَ سِيْرَةً وَ يَجْعَلُوا هَاتَيْنِ کامل بندوں کے لئے چاہا کہ وہ بھی دوسرے بنی نوع الصَّفَتَيْنِ لِأَنْفُسِهِمْ لِبَاسًا وَ كِسْوَةً انسان کے لئے اپنے اخلاق اور سیرت کے لحاظ سے ليَتَخَلَّقَ الْعُبُودِيَّةُ بِأَخْلَاقِ الرُّبُوبِيَّةِ وَلَا اس کی ذات والا صفات کا پرتو ہوں اور ان دونوں يَبْقَى نَقُصُّ فِي النَّشَأَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ فَخَلَقَ صفات کو اپنا لباس اور پوشش بنا لیں تا عبودیت النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ مَظهَرَ ربوبیت کے اخلاق کا جامہ پہن لے۔اور انسان کے صِفَتِهِ الرَّحْمَانِ وَ بَعْضَهُمْ مَظْهَرَ صِفَتِهِ (روحانی) نشوونما میں کوئی نقص باقی نہ رہ جائے۔پس الرَّحِيْمِ۔لِيَكُونُوا مَحْبُوبِينَ وَ مُنِينَ وَ اُس نے انبیاء اور مرسلین کو پیدا کیا اور ان میں سے يُعَاشِرُوا بِالتَّعَابَبِ بِفَضْلِهِ الْعَظِيْمِ۔بعض کو اپنی صفت رحمانیت کا اور بعض کو اپنی صفت فَأَعْطَى بَعْضَهُمْ حَظًّا وَافِرًا مِّنْ صِفَةِ رحیمیت کا مظہر بنایا تا کہ وہ محبوب بھی ہوں اور محبت بھی |