تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 51
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة الفاتحة عِنْدَ كُلِّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ كَمَا جَاءَ فِي شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحسن قرار دیا گیا ہے الْأَحَادِيثِ النَّبَوِيَّةِ وَ إِنَّهَا أَكْثَرُ وِرُدًا نیز یہ آیت مسلمانوں کی زبانوں پر اکثر جاری رہتی ہے۔ عَلَى أَلْسُنِ أَهْلِ الْمِلَّةِ وَأَكْثَرُ تَكْرَارًا فِي اور خدائے عزیز کی کتاب قرآن کریم میں بڑی کثرت كِتَابِ اللهِ ذِي الْعِزَّةِ فَبِأَيِّ حِكْمَةٍ وَ سے دہرائی گئی ہے۔ تو پھر کس حکمت اور مصلحت کے ماتحت مَصْلِحَةٍ لَّمْ يُكْتَبْ صِفَاتُ أُخْرَى مَعَ اس مبارک آیت میں خدا تعالیٰ کی دوسری صفات درج هَذِهِ الْآيَةِ الْمُتَبَرِكَةِ۔ نہیں کی گئیں ۔ فَالْجَوَابُ أَنَّ اللهَ أَرَادَ فِي هَذَا اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ الْمُقَامِ أَنْ يَذْكُرَ مَعَ اسْمِهِ الْأَعْظَمِ ارادہ فرمایا کہ اپنے اسم اعظم کے ساتھ انہی دو صفات کا صِفَتَيْنِ هُمَا خُلاصَةُ جَمِيعِ صِفَاتِهِ ذکر کرے جو اس کی تمام صفات عظیمہ کا پورا پورا خلاصہ الْعَظِيمَةِ عَلَى الْوَجْهِ التَّامِ وَ هُمَا ہیں ۔ اور وہ دونوں صفات الر حمن اور الرحیم ہیں۔ الرَّحْمَنُ وَ الرَّحِيمُ كَمَا يَهْدِى إِلَيْهِ چنانچہ عقل سلیم بھی اسی کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ کیونکہ الْعَقْلُ السَّلِيمُ فَإِنَّ اللهَ تَجَلَّى على خدا تعالیٰ نے اس دنیا پر کبھی بطور محبوب اور کبھی بطور محبّ هَذَا الْعَالَمِ تَارَةً بِالْمَحْبُوبِيَّةِ وَ مَرَّةً تجلی فرمائی ہے اور اس نے ان دونوں صفات کو ایسی روشنی بِالْمُحِيَّةِ وَ جَعَلَ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ بنایا ہے جو آفتاب ربوبیت سے عبودیت کی زمین پر نازل ضِيَاء يَنْزِلُ مِنْ شَمسِ الرُّبُوبِيَّةِ عَلی ہوتی ہے۔ پس کبھی تو خدا تعالیٰ محبوب بن جاتا ہے اور بندہ أَرْضِ الْعَبُودِيَّةِ فَقَدْ يَكُونُ الرَّبُّ اس محبوب کا محب اور کبھی بندہ محبوب بن جاتا ہے اور خدا مَحْبُوبًا وَالْعَبْدُ مُحِيًّا لِذَالِكَ الْمَحْبُوبِ تعالیٰ اس کا محب ہوتا ہے اور بندہ کو مطلوب کی طرح بنا لیتا وَقَدْ يَكُونُ الْعَبْدُ مَحْبُوبًا وَالرَّبُّ مُحِيًّا له ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انسانی فطرت جس وَجَاعِلُهُ كَالْمَطْلُوبِ وَلَا شَكٍّ أَنَّ میں محبت ، دوستی اور سوز دل ودیعت کیا گیا ہے چاہتی ہے الْفِطْرَةَ الْإِنْسَانِيَّةَ الَّتِي فُطِرَتْ عَلَی کہ اس کا کوئی محبوب ہو جو اسے اپنی تجلیات جمالیہ اور الْمَحَبَّةِ وَالْخُلَّةِ وَلَوْعَةِ الْبَالِ تَقْتَضِي أَنْ نعمتوں اور عطایا سے اپنی طرف کھینچے اور یہ کہ اس کا کوئی يَكُونَ لَهَا مَحْبُوبًا تَجْنِهَا إِلى وَجْهِهِ ایسا غم خوار دوست ہو جو خوف اور پریشان حالی کے وقت بِتَجَلِّيَاتِ الْجَمَالِ وَالنِّعَمِ وَالتَّوَالِ اس کا ساتھ دے وہ اس کے اعمال کو ضائع ہونے سے