تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 50
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة فَهِيَ فَيْضٌ أَخَصُّ مِنْ فُيُوضِ الصَّفَةِ صفتِ رحمانیت کے فیوض سے خاص تر ہے۔ یہ فیضان الرَّحْمَانِيَّةِ وَ مَخصُوصَةٌ بِتَكْمِيْلِ النَّوْعِ نوع انسانی کی تکمیل اور انسانی فطرت کو کمال تک پہنچانے الْبَشَرِي وَ الْمَالِ الْخِلْقَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ کے لئے مخصوص ہے لیکن اس کے حاصل کرنے کے لئے ولكن بِشَرْطِ الشَّعْيِ وَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ کوشش کرنا عمل صالح بجالانا اور جذبات نفسانیہ کو ترک وَتَرْكِ الْجَذَبَاتِ النَّفْسَانِيَّةِ بَلْ لَا تَنْزِلُ کرنا شرط ہے۔ یہ رحمت پورے طور پر نازل نہیں ہوتی هَذِهِ الرَّحْمَةُ حَقَّ نُزُولِهَا إِلَّا بَعْدَ الْجَهْدِ جب تک اعمال بجالانے میں پوری کوشش نہ کی جائے البليغ فِي الْأَعْمَالِ وَبَعْدَ تَزْكِيَةِ النَّفْسِ اور جب تک تزکیہ نفس نہ ہو اور ریا کو گلی طور پر ترک وَتَكْمِيلِ الْإِخْلَاصِ بِإِخْرَاجِ بَقَايَا الرِّيَاءِ کر کے خلوص کامل اور طہارت قلب حاصل نہ ہو اور جب وَتَطْهِيرِ الْبَالِ وَبَعْدَ إِيثَارِ الْمَوْتِ تک خدائے ذوالجلال کی خوشنودی حاصل کرنے کی لابْتِغَاءِ مَرَضَاتِ اللهِ ذِي الْجَلَالِ فَطُوبی خاطر موت کو قبول نہ کر لیا جائے۔ پس مبارک ہیں وہ لِمَنْ أَصَابَهُ حَقٌّ مِنْ هَذِهِ النِّعَمِ بَلْ هُوَ لوگ جنہیں ان نعمتوں سے حصہ ملا ۔ بلکہ وہی اصل انسان الْإِنْسَانُ وَغَيْرُهُ كَالنَّعَمِ ہیں اور باقی لوگ تو چار پایوں کی مانند ہیں۔ وَهُهُنَا سُؤَالٌ عُضَالٌ نَكْتُبُهُ فِي یہاں ایک مشکل سوال ہے جسے ہم اس جگہ مع جواب الْكِتَابِ مَعَ الْجَوَابِ لِيُفَكِّرَ فِيهِ مَنْ كَانَ لکھتے ہیں تا کہ عقلمند اس میں غور و فکر کرسکیں اور وہ سوال یہ مِنْ أُولِي الْأَلْبَابِ وَهُوَ أَنَّ اللهَ اخْتَارَ مِنْ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں جَمِيعِ صِفَاتِهِ صِفَتَي الرَّحْمَانِ وَ الرَّحِيمِ اپنی تمام صفات میں سے صرف دو صفات الرحمن اور فِي الْبَسْمَلَةِ وَمَا ذَكَرَ صِفَةً أُخْرَى فِي هَذِهِ الرَّحِيمِ کو ہی اختیار کیا ہے اور کسی اور صفت کا اس الْآيَةِ مَعَ أَنَّ اسْمَهُ الْأَعْظَمَ يَسْتَحِقُ جَمِيعَ آیت میں ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ( یعنی مَا هُوَ مِنَ الصَّفَاتِ الْكَامِلَةِ كَمَا هِيَ الله ) تمام ان صفات کاملہ کا مستحق ہے جو مقدس صحیفوں مَنْ كُورَةٌ فِي الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ ثُمَّ إِنَّ میں مذکور ہیں ۔ پھر کثرت صفات تلاوت کے وقت كَثْرَةَ الصَّفَاتِ تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الْبَرَكَاتِ کثرت بركات کو مستلزم ہے۔ پس بسم اللہ کی آیت کریمہ عِنْدَ التَّلَاوَةِ فَالْبَسْمَلَةُ أَحَقُّ وَ أَوْلَی اللہ کی کثرت صفات کے بیان کے مقام اور مرتبہ کی زیادہ بِهَذَا الْمَقَامِ وَالْمَرْتَبَةِ۔ وَقَدْ نُدِبَ لَهَا | حقدار اور سزاوار ہے اور حدیث نبوی میں ہر اہم کام