تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 49

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ سورة الفاتحة وس اثَارِ وُجُودِ الْإِنْسَانِ وَالْحَيَوَانِ وَإِنْ كَانَ وجود میں آنے سے پہلے ہی پائے جاتے ہیں اگر چہ یہ فیض سَارِيَّا فِي جَمِيعِ مَرَاتِبِ الْوُجُودِ وَالزَّمَانِ تمام مراتب وجود اور زمان و مکان اور حالت طاعت و عصیان وَالْمَكَانِ وَالطَّاعَةِ وَالْعِصْيَانِ أَلَا تَرَی میں جاری و ساری رہتا ہے ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ أَنَّ رَحْمَانِيَّةَ اللهِ تَعَالَى وَسِعَتِ الصَّالِحِينَ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نیکوکاروں اور ظالموں سب پر وَالظَّالِمِينَ وَتَرَى قَمَرَةً وَشَمْسَهُ يَطْلُعَانِ وسیع ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا چاند اور اس کا عَلَى الطَّائِعِينَ وَالْعَاصِينَ وَإِنَّهُ أَعْطى سورج اطاعت گزاروں اور نافرمانوں سبھی پر چڑھتا ہے۔ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ وَ كَفَلَ أَمْرَ كُلِّهِمْ اور خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے مناسب حال قومی کے أَجْمَعِينَ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا ساتھ پیدا کیا ہے اور اس نے ان سب کے معاملات کا وَلَوْ كَانَ فِي السَّمَوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِينَ وَ ذمہ لیا ہے اور کوئی بھی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے إِنَّهُ خَلَقَ لَهُمُ الْأَشْجَارَ وَأَخْرَجَ مِنْهَا ذمہ ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں ۔ اُسی نے ان المارَ وَالزَّهْرَ وَ الرَّيَاحِينَ وَ إِنَّهَا رَحْمَةٌ کے لئے درخت پیدا کئے اور ان درختوں سے پھل پھول هَيَّأَهَا اللهُ لِلنُّفُوسِ قَبْلَ أَنْ يَبْرَأَهَا وَإِنَّ اور خوشبوئیں پیدا کیں اور یہ ایسی رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ فِيهَا تَذْكِرَةً لِلْمُتَّقِينَ وَ قَدْ أُعْطِيَ هَذِهِ نے انسانوں کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے لئے مہیا فرمایا۔ النِّعَمُ مِنْ غَيْرِ الْعَمَلِ وَ مِنْ غَيْرِ اس میں متقیوں کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ یہ نعمتیں الْإِسْتِحْقَاقِ مِنَ اللهِ الرَّاحِيمِ الْخَلاقِ بغیر کسی عمل اور بغیر کسی حق کے اس بے حد مہربان اور عظیم وَمِنْهَا نَعْمَاءُ أُخْرَى مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ - خالقِ عالم کی طرف سے عطا ہوئی ہیں۔ اور اس عالی بارگاہ وَهِيَ خَارِجَةٌ مِّنَ الْإِحْصَاءِ ۔ كَمِثْلِ خَلْقِ سے ایسی ہی اور بھی بہت سی نعمتیں بخشی گئی ہیں جو شمار سے أَسْبَابِ الصَّحَةِ وَ أَنْوَاعِ الْحِيَلِ وَ الدَّوَاءِ باہر ہیں ۔ مثلاً صحت قائم رکھنے کے ذرائع پیدا کرنا اور ہر لِكُلِّ نَوْعٍ مِنَ الدَّاءِ وَإِرْسَالِ الرُّسُلِ بیماری کے لئے علاج اور دواؤں کا پیدا کرنا۔ رسولوں کا وَإِنْزَالِ الْكُتُبِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَ هَذِهِ مبعوث کرنا اور انبیاء پر کتابوں کا نازل کرنا یہ سب كُلُّهَا رَحْمَانِيَّةٌ مِنْ رَّبَّنَا أَرْحَمِ الرُّحَمَاءِ ہمارے رب ارحم الراحمین کی رحمانیت ہے۔ یہ خالص فضل وَفَضْلُ بَحْتُ لَيْسَ مِنْ عَمَلِ عَامِلٍ وَلَا ہے جو کسی کام کرنے والے کے کام یا گریہ وزاری یا دُعا مِنَ التَّضَرُّعِ وَالدُّعَاءِ وَأَمَّا الرَّحِيمِيَّةُ کے نتیجہ میں نہیں ہے۔ لیکن رحیمیت وہ فیض الہی ہے جو