تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 48

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ٧ سورة الفاتحة لِجَمِيعِ أَنْوَاعِ الْكَمَالِ وَالرَّحْمٰنُ وَ الرَّحِيمُ ہے اور اس جگہ الر حمن اور الرحیم دونوں اس بات يدلانِ عَلَى تَحَقِّقِ هَاتَيْنِ الصَّفَتَيْنِ لِهَذَا پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ دونوں صفتیں اللہ کے لئے الْإِسْمِ الْمُسْتَجْمِعِ لِكُلِّ نَوْعِ الْجَمَالِ وَالْجَلَالِ ثابت ہیں جو ہر قسم کے جمال اور جلال کا جامع ہے۔ ثُمَّ لِلرَّحْمَنِ مَعْنَى خَاصٌ يَخْتَصُّ بِهِ وَلَا پھر لفظ الرَّحمن کے ایک اپنے بھی خاص معنی ہیں جو يُوجَدُ فِي الرَّحِيمِ وَهُوَ أَنَّهُ مُفِيضٌ لِوُجُودِ الرَّحِيمِ کے لفظ میں نہیں پائے جاتے اور وہ یہ ہیں کہ الْإِنْسَانِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْحَيَوَانَاتِ بِإِذْنِ اللهِ اِذنِ الہی سے صفت الرحمن کا فیضان انسان اور الْكَرِيمِ بِحَسَبِ مَا اقْتَضَى الْحِكَمُ الْإِلَهِيَّةُ دوسرے حیوانات کو قدیم زمانہ سے حکمتِ الہیہ کے مِنَ الْقَدِيمِ وَبِحَسَبِ تَحَملِ الْقَوَابِلِ لا اقتضاء اور جو ہر قابل کی قابلیت کے مطابق پہنچتا رہا ہے۔ بِحَسَبِ تَسْوِيَةِ التَّقْسِيمِ۔ وَلَيْسَ فِي هَذِهِ نه که مساوی تقسیم کے طور پر اور اس صفت رحمانیت میں الصَّفَةِ الرَّحْمَانِيَّةِ دَخُلُ كَسْبٍ وَعَمَلٍ وَسَعْيِ انسانوں یا حیوانوں کے قومی کے کسب اور عمل اور کوشش کا مِنَ الْقُوَى الْإِنْسَانِيَّةِ أَوِ الْحَيَوَانِيَّةِ بَلْ هِيَ کوئی دخل نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا خالص احسان ہے جس مِنَةٌ مِنَ اللهِ خَاصَّةً مَّا سَبَقَهَا عَمَلُ عَامِلٍ سے پہلے کسی کا کچھ عمل بھی موجود نہیں ہوتا اور یہ به خدا خدا تعالی وَرَحْمَتُهُ مِن لَّدُنْهُ عَامَّةً مَا مَشَهَا أَثَرُ سَعْيِ کی طرف سے ایک عام رحمت ہے جس میں ناقص یا مِنْ نَاقِصٍ أَوْ كَامِلٍ۔ کامل شخص کی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ فَالْحَاصِلُ أَنَّ فَيُضَانَ الصَّفَةِ الرَّحْمَانِيَّةِ حاصل کلام یہ ہے کہ صفت رحمانیت کا فیضان کسی لَيْسَ هُوَ نَتِيْجَةَ عَمَلٍ وَلَا ثَمَرَةَ اسْتِحْقَاقِ عمل کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ کسی استحقاق کا ثمرہ ہے بلکہ یہ بَلْ هُوَ فَضْلُ مِنَ اللهِ مِنْ غَيْرِ إِطَاعَةٍ أَوْ ایک خاص فضل ایز دی ہے جس میں فرمانبرداری شِقَاقٍ وَيَنْزِلُ هَذَا الْفَيْضُ دَائِمًا بِمَشِيَّةٍ یا نا فرمانی کا دخل نہیں اور یہ فیضان ہمیشہ خدا تعالیٰ کی مِنَ اللَّهِ وَ إِرَادَةٍ مِنْ غَيْرِ شَرْطِ إِطَاعَةٍ مشیت اور ارادہ کے ماتحت نازل ہوتا ہے۔ اس میں وَعِبَادَةٍ وَ تُقَاةٍ وَزَهَادَةٍ وَكَانَ بِنَاءُ هَذَا کسی اطاعت، عبادت، تقویٰ اور زہد کی شرط نہیں۔ الْفَيْضِ قَبْلَ وُجُودِ الْخَلِيقَةِ وَقَبْلَ اس فیض کی بنا مخلوق کی پیدائش، اس کے اعمال ، اس کی أَعْمَالِهِمْ وَقَبْلَ جَهْدِهِمْ وَقَبْلَ سُؤَالِهِمْ کوشش اور اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی رکھی گئی فَلِأَجْلِ ذَالِكَ تُوجَدُ أَثَارُ هَذَا الْفَيْضِ قَبْلَ ہے۔ اس لئے اس فیض کے آثار انسان اور حیوان کے