تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 42
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲ سورة الفاتحة طالب صادق پر روشن ہے اور کیونکر روشن نہ ہو۔ہر عاقل سمجھ سکتا ہے کہ ہم لوگ کس حالت ضعف اور ناتوانی میں پڑے ہوئے ہیں اور بغیر خدا کی مددوں کے کیسے سکتے اور ناکارہ ہیں۔اگر ایک ذات متصرف مطلق ہر لحظہ اور ہر دم ہماری خبر گیراں نہ ہو۔اور پھر اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہماری کارسازی نہ کرے تو ہمارے سارے کام تباہ ہو جائیں۔بلکہ ہم آپ ہی فنا کا راستہ لیں۔پس اپنے کاموں کو خصوصا آسمانی کتاب کو کہ جو سب امور عظیمہ سے اُدق اور الطف ہے۔خداوند قادر مطلق کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے بہ نیت تبرک و استمداد شروع کرنا ایک ایسی بدیہی صداقت ہے کہ بلا اختیار ہم اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں کیوں کہ فی الحقیقت ہر یک برکت اسی راہ سے آتی ہے کہ وہ ذات جو متصرف مطلق اور علت العلل اور تمام فیوض کا مبدء ہے جس کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ ہے خود متوجہ ہوکر اوّل اپنی صفت رحمانیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ قبل از سعی درکار ہے اس کو محض اپنے تفضل اور احسان سے بغیر توسط اعمل کے ظہور میں لاوے۔پھر جب وہ صفت رحمانیت کی اپنے کام کو بہ تمام و کمال کر چکے اور انسان تو فیق پا کر اپنی قوتوں کے ذریعہ سے محنت اور کوشش کا حق بجالا وے تو پھر دوسرا کام اللہ تعالیٰ کا یہ ہے کہ اپنی صفت رحیمیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ بندہ نے محنت اور کوشش کی ہے اس پر نیک ثمرہ مترتب کرے اور اس کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچا کر گوہر مراد عطا فرما دے۔اس صفت ثانی کی رو سے کہا گیا ہے کہ جو ڈھونڈتا ہے پاتا ہے، جو مانگتا ہے اس کو دیا جاتا ہے، جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جاتا ہے یعنی خدائے تعالیٰ اپنی صفت رحیمیت سے کسی کی محنت اور کوشش کو ضائع ہونے نہیں دیتا اور آخر جوئندہ یا بندہ ہو جاتا ہے۔غرض یہ صداقتیں ایسی بین الظہو ر ہیں کہ ہر ایک شخص خود تجربہ کر کے ان کی سچائی کو شناخت کر سکتا ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں کہ بشرط کسی قدر عقلمندی کے یہ بدیہی صداقتیں اس پر چھپی رہیں۔ہاں یہ بات ان عام لوگوں پر نہیں کھلتی کہ جو دلوں کی سختی اور غفلت کی وجہ سے صرف اسباب معتادہ پر ان کی نظر ٹھہری رہتی ہے اور جو ذات متصرف فی الاسباب ہے اس کے تصرفات لطیفہ پر ان کو علم حاصل نہیں ہوتا اور نہ ان کی عقل اس قدر وسیع ہوتی ہے کہ جو اس بات کو سوچ لیں کہ ہزار ہا بلکہ بے شمار ایسے اسباب سماوی و ارضی انسان کے ہر یک جسم کی آرائش کے لئے درکار ہیں جن کا بہم پہنچنا ہر گز انسان کے اختیار اور قدرت میں نہیں بلکہ ایک ہی ذات متجمع صفات کاملہ ہے کہ جو تمام اسباب کو آسمانوں کے اوپر سے زمینوں کے نیچے تک پیدا کرتا ہے اور ان پر بہر طور تصرف اور قدرت رکھتا ہے، مگر جو لوگ عقلمند ہیں وہ اس بات کو بلاتر ڈو بلکہ بدیہی طور پر سمجھتے ہیں اور جو ان سے بھی اعلیٰ اور ا