تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 41
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة الفاتحة دل سے خدا کے تصرف پر ایمان لاتا ہے۔اس جگہ ان خشک فلسفیوں کے اس مقولہ کو بھی کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو کہتے ہیں کہ کسی کام کے شروع کرنے میں استمداد الہی کی کیا حاجت ہے۔خدا نے ہماری فطرت میں پہلے سے طاقتیں ڈال رکھی ہیں۔پس ان طاقتوں کے ہوتے ہوئے پھر دوبارہ خدا سے طاقت مانگنا تحصیل حاصل ہے۔کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ بے شک یہ بات سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے بعض افعال کے بجالانے کے لئے کچھ کچھ ہم کو طاقتیں بھی دی ہیں مگر پھر بھی اس قیوم عالم کی حکومت ہمارے سر پر سے دور نہیں ہوئی اور وہ ہم سے الگ نہیں ہوا اور اپنے سہارے سے ہم کو جدا کرنا نہیں چاہا اور اپنے فیوض غیر متناہی ا سے ہم کو محروم کرنا روا نہیں رکھا۔جو کچھ ہم کو اس نے دیا ہے وہ ایک امر محدود ہے۔اور جو کچھ اس سے مانگا جاتا ہے اس کی نہایت نہیں۔علاوہ اس کے جو کام ہماری طاقت سے باہر ہیں ان کے حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی ہم کو طاقت نہیں دی گئی۔اب اگر غور کر کے دیکھو اور ذرا پوری فلسفیت کو کام میں لاؤ تو ظاہر ہوگا کہ کامل طور پر کوئی بھی طاقت ہم کو حاصل نہیں مثلاً ہماری بدنی طاقتیں ہماری تندرستی پر موقوف ہیں اور ہماری تندرستی بہت سے ایسے اسباب پر موقوف ہے کہ کچھ ان میں سے سماوی اور کچھ ارضی ہیں اور وہ سب کی سب ہماری طاقت سے بالکل باہر ہیں اور یہ تو ہم نے ایک موٹی سی بات عام لوگوں کی سمجھ کے موافق کہی ہے لیکن جس قدر در حقیقت وہ قیوم عالم اپنی علت العلک ہونے کی وجہ سے ہمارے ظاہر اور ہمارے باطن اور ہمارے اوّل اور ہمارے آخر اور ہمارے فوق اور ہمارے تحت اور ہمارے یمین اور ہمارے لیسار اور ہمارے دل اور ہماری جان اور ہماری روح کی تمام طاقتوں پر احاطہ کر رہا ہے وہ ایک ایسا مسئلہ دقیق ہے جس کے گنہ تک عقول بشر یہ پہنچ ہی نہیں سکتیں اور اس کے سمجھانے کی اس جگہ ضرورت بھی نہیں۔کیونکہ جس قدر ہم نے او پر لکھا ہے وہی مخالف کے الزام اور افہام کے لئے کافی ہے۔غرض قیوم عالم کے فیوض حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ اپنی ساری قوت اور زور اور طاقت سے اپنا بچاؤ طلب کیا جائے اور یہ طریق کچھ نیا طریق نہیں ہے بلکہ یہ وہی طریق ہے جو قدیم سے بنی آدم کی فطرت کے ساتھ لگا چلا آتا ہے۔جو شخص عبودیت کے طریقہ پر چلنا چاہتا ہے وہ اس طریق کو اختیار کرتا ہے اور جو شخص خدا کے فیوض کا طالب ہے وہ اسی راستے پر قدم مارتا ہے۔اور جو شخص مور درحمت ہونا چاہتا ہے وہ انہیں قوانین قدیمہ کی تعمیل کرتا ہے۔یہ قوانین کچھ نئے نہیں ہیں۔یہ عیسائیوں کے خدا کی طرح کچھ مستحدث بات نہیں۔بلکہ خدا کا یہ ایک قانون محکم ہے کہ جو قدیم سے بندھا ہوا چلا آتا ہے اور سنت اللہ ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری ہے جس کی سچائی کثرت تجارب سے ہر یک