تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 40
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۔ سورة الفاتحة ہوتی ہیں اور پھر اپنی کمزوری اور امداد الہی پر یقین کامل کر کے اس معرفت سے حصہ پالیتا ہے کہ جو خاص اہل اللہ کو دی جاتی ہے اور بلا شبہ جس قدر انسان اس طریقہ کو لازم پکڑتا ہے، جس قدر اس پر عمل کرنا اپنا فرض ٹھہرا لیتا ہے، جس قدر اس کے چھوڑنے میں اپنی ہلاکت دیکھتا ہے اسی قدر اس کی توحید صاف ہوتی ہے اور اسی قدر محجب اور خود بینی کی آلائشوں سے پاک ہوتا جاتا ہے اور اسی قدر تکلف اور بناوٹ کی سیاہی اس کے چہرہ پر سے اُٹھ جاتی ہے اور سادگی اور بھولا پن کا نور اس کے مونہہ پر چمکنے لگتا ہے۔ پس یہ وہ صداقت ہے کہ جو رفتہ رفتہ انسان کو فنافی اللہ کے مرتبہ تک پہنچاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دیکھتا ہے کہ میرا کچھ بھی اپنا نہیں بلکہ سب کچھ میں خدا سے پاتا ہوں ۔ جہاں کہیں یہ طریق کسی نے اختیار کیا وہیں توحید کی خوشبو پہلی دفعہ میں ہی اس کو پہنچنے لگتی ہے اور دل اور دماغ کا معطر ہونا شروع ہوتا جاتا ہے بشرطیکہ قوت شامہ میں کچھ فساد نہ ہو ۔ غرض اس صداقت کے التزام میں طالب صادق کو اپنے بیچ اور بے حقیقت ہونے کا اقرار کرنا پڑتا ہے اور اللہ جل شانہ کے متصرف مطلق اور مبدء فیوض ہونے پر شہادت دینی پڑتی ہے۔ اور یہ دونوں ایسے امر ہیں کہ جو حق کے طالبوں کا مقصود ہے اور مرتبہ ء فنا کے حاصل کرنے کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔ اس ضروری شرط کے سمجھنے کے لئے یہی مثال کافی ہے کہ بارش اگرچہ عالمگیر ہو مگر تا ہم اس پر پڑتی ہے کہ جو بارش کے موقعہ پر آ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ طلب کرتے ہیں وہی پاتے ہیں اور جو ڈھونڈتے ہیں انہیں کو ملتا ہے۔ جو لوگ کسی کام کے شروع کرنے کے وقت اپنے ہنر یا عقل یا طاقت پر بھروسا رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ نہیں رکھتے وہ اس ذات قادر مطلق کا کہ جو اپنی قیومی کے ساتھ تمام عالم پر محیط ہے کچھ قدر شناخت نہیں کرتے اور ان کا ایمان اس خشک ٹہنی کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو اپنے شاداب اور سرسبز درخت سے کچھ علاقہ نہیں رہا اور جو ایسی خشک ہو گئی ہے کہ اپنے درخت کی تازگی اور پھول اور پھل سے کچھ بھی حصہ حاصل نہیں کر سکتی صرف ظاہری جوڑ ہے جو ذراسی جنبش ہوا سے یا کسی اور شخص کے ہلانے سے ٹوٹ سکتا ہے۔ پس ایسا ہی خشک فلسفیوں کا ایمان ہے کہ جو قیوم عالم کے سہارے پر نظر نہیں رکھتے اور اس مبدء فیوض کو جس کا نام اللہ ہے ہر یک طرفہ العین کے لئے اور ہر حال میں اپنا محتاج الیہ قرار نہیں دیتے۔ پس یہ لوگ حقیقی توحید سے ایسے دور پڑے ہوئے ہیں جیسے نور سے ظلمت دور ہے۔ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں کہ اپنے تئیں بیچ اور لاشئے سمجھ کر قادر مطلق کی طاقت عظمی کے نیچے آ پڑنا عبودیت کے مراتب کی آخری حد ہے اور توحید کا انتہائی مقام ہے جس سے فنا اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے اور انسان اپنے نفس اور اس کے ارادوں سے بالکل کھویا جاتا ہے اور سچے