تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 39
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹ سورة الفاتحة جاتی ہے تو ضرور فیضانِ الہی ان کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے۔ہر یک انسان جو اپنی کمزوریوں پر نگاہ کرتا ہے اور اپنے قصوروں کو دیکھتا ہے وہ کسی کام پر آزادی اور خود بینی سے ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ سچی عبودیت اس کو یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ جو متصرف مطلق ہے اس سے مدد طلب کرنی چاہئے یہ سچی عبودیت کا جوش ہر یک ایسے دل میں پایا جاتا ہے کہ جو اپنی فطرتی سادگی پر قائم ہے اور اپنی کمزوری پر اطلاع رکھتا ہے۔پس صادق آدمی جس کی روح میں کسی قسم کے غرور اور عجب نے جگہ نہیں پکڑی اور جو اپنے کمزور اور پیچ اور بے حقیقت وجود پر خوب واقف ہے اور اپنے تئیں کسی کام کے انجام دینے کے لائق نہیں پاتا اور اپنے نفس میں کچھ قوت اور طاقت نہیں دیکھتا جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو بلا تصنع اس کی کمز ور روح آسمانی قوت کی خواستگار ہوتی ہے اور ہر وقت اس کو خدا کی مقتدر ہستی اپنے سارے کمال و جلال کے ساتھ نظر آتی ہے اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہر یک کام کے انجام کے لئے مدار دکھلائی دیتی ہے۔پس وہ بلا ساختہ اپنا ناقص اور ناکارہ زور ظاہر کرنے سے پہلے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ کی دُعا سے امداد الہی چاہتا ہے پس اس انکسار اور فروتنی کی وجہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا کی قوت سے قوت اور خدا کی طاقت سے طاقت اور خدا کے علم سے علم پاوے اور اپنی مرادات میں کامیابی حاصل کرے۔اس بات کے ثبوت کے واسطے کسی منطق یا فلسفہ کے دلائل پر از تکلف درکار نہیں ہیں بلکہ ہر یک انسان کی روح میں اس کے سمجھنے کی استعداد موجود ہے اور عارف صادق کے اپنے ذاتی تجارب اس کی صحت پر بہ تو اتر شہادت دیتے ہیں۔بندہ کا خدا سے امداد چاہنا کوئی ایسا امر نہیں ہے جو صرف بیہودہ اور بناوٹ ہو یا جو صرف بے اصل خیالات پر مبنی ہو اور کوئی معقول نتیجہ اس پر مترتب نہ ہو بلکہ خداوند کریم کہ جو فی الحقیقت قیوم عالم ہے اور جس کے سہارے پر سچ مچ اس عالم کی کشتی چل رہی ہے۔اس کی عادت قدیمہ کے رو سے یہ صداقت قدیم سے چلی آتی ہے کہ جو لوگ اپنے تئیں حقیر اور ذلیل سمجھ کر اپنے کاموں میں اس کا سہارا طلب کرتے ہیں اور اس کے نام سے اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں تو وہ ان کو اپنا سہارا دیتا ہے۔جب وہ ٹھیک ٹھیک اپنی عاجزی اور عبودیت سے رو بخدا ہو جاتے ہیں تو اس کی تائید میں ان کے شامل حال ہو جاتی ہیں۔غرض ہر ایک شاندار کام کے شروع میں اس مبدء فیوض کے نام سے مدد چاہنا کہ جو رحمان ورحیم ہے ایک نہایت ادب اور عبودیت اور نیستی اور فقر کا طریقہ ہے۔اور ایسا ضروری طریقہ ہے کہ جس سے تو حید فی الاعمال کا پہلا زینہ شروع ہوتا ہے جس کے التزام سے انسان بچوں کی سی عاجزی اختیار کر کے ان نخوتوں سے پاک ہو جاتا ہے کہ جو دنیا کے مغرور دانشمندوں کے دلوں میں بھری