تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 38

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸ سورة الفاتحة تندرستی اور امن اور فرصت اور ایک کافی مدت تک عمر پا نا یہ وہ سب امور ہیں کہ جو صفت رحمانیت کے تقاضا سے ظہور میں آتے ہیں۔اسی طرح خدا کی رحیمیت تب ظہور کرتی ہے کہ جب انسان سب تو فیقوں کو پا کر خداداد قوتوں کو کسی فعل کے انجام کے لئے حرکت دیتا ہے۔اور جہاں تک اپنا زور اور طاقت اور قوت ہے خرچ کرتا ہے تو اس وقت عادت الہیہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ اس کی کوششوں کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ ان کوششوں پر ثمرات حسنه مترتب کرتا ہے۔پس یہ اس کی سراسر رحیمیت ہے کہ جو انسان کی مردہ محنتوں میں جان ڈالتی ہے۔اب جاننا چاہئے کہ آیت ممدوحہ کی تعلیم سے مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے شروع کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات جامع صفات کاملہ کی رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد اور برکت طلب کی جائے۔صفت رحمانیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحمانیت کی وجہ سے اس سب اسباب کو محض لطف اور احسان سے میسر کر دے کہ جو کلام الہی کی متابعت میں جدو جہد کرنے سے پہلے درکار ہیں جیسے عمر کا وفا کرنا ، فرصت اور فراغت کا حاصل ہونا، وقت صفا میسر آ جانا، طاقتوں اور قوتوں کا قائم ہونا، کوئی ایسا امر پیش نہ آ جانا کہ جو آسائش اور امن میں خلل ڈالے، کوئی ایسا مانع نہ آ پڑنا کہ جو دل کو متوجہ ہونے سے روک دے۔غرض ہر طرح سے توفیق عطا کئے جانا یہ سب امور صفت رحمانیت سے حاصل ہوتے ہیں۔اور صفت رحیمیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحیمیت کی وجہ سے انسان کی کوششوں پر ثمرات حسنہ مترتب کرے اور انسان کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچاوے اور اس کی سعی اور جدو جہد کے بعد اس کے کام میں برکت ڈالے۔پس اس طور پر خدائے تعالیٰ کی دونوں صفتوں رحمانیت اور رحیمیت سے کلام الہی کے شروع کرنے کے وقت بلکہ ہر یک ذیشان کام کے ابتدا میں تبرک اور استمداد چاہنا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جس سے انسان کو حقیقت توحید کی حاصل ہوتی ہے اور اپنے جاہل اور بے خبری اور نادانی اور گمراہی اور عاجزی اور خواری پر یقین کامل ہو کر مبدء فیض کی عظمت اور جلال پر نظر جا ٹھہرتی ہے اور اپنے تئیں بکلی مفلس اور مسکین اور پیچ اور ناچیز سمجھ کر خداوند قادر مطلق سے اس کی رحمانیت اور رحیمیت کی برکتیں طلب کرتا ہے۔اور اگر چہ خدائے تعالی کی یہ صفتیں خود بخود اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں مگر اس حکیم مطلق نے قدیم سے انسان کے لئے یہ قانون قدرت مقرر کر دیا ہے کہ اس کی دُعا اور استمداد کو کامیابی میں بہت سا دخل ہے جو لوگ اپنی مہمات میں دلی صدق سے دُعا مانگتے ہیں اور ان کی دُعا پورے پورے اخلاص تک پہنچ