تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 28

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸ سورة الفاتحة أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ استعاذہ کا حکم اور اس کی حکمت اعْلَمُ يَا طَالِبَ الْعِرْفَانِ أَنَّهُ مَنْ | اے طالب معرفت جان لو کہ جب کوئی شخص سورۃ فاتحہ أَحَلَّ نَفْسَهُ فَحَلَّ تِلَاوَةِ الْفَاتِحَةِ اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگے تو اس پر لازم ہے وَالْفُرْقَانِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَعِينَ مِنَ کہ وه أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پڑھے جیسا کہ الشَّيْطَانِ كَمَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّ قرآن کریم میں حکم ہے۔ کیونکہ کبھی شیطان خدا تعالیٰ کی الشَّيْطَانَ قَدْ يَدْخُلُ حِمَى الْحَضْرَةِ رکھ میں چوروں کی طرح داخل ہو جاتا ہے اور اس حرم کے كَالسَّارِقِينَ وَ يَدْخُلُ الْحَرَمَ الْعَاصِمَ اندر آ جاتا ہے جو معصومین کا محافظ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لِلْمَعْصُومِينَ۔ فَأَرَادَ اللهُ أَنْ يُنَجِّيَ عِبَادَةَ ارادہ فرمایا کہ وہ سورۃ فاتحہ اور قرآن مجید کی تلاوت کے مِنْ صَوْلِ الْخَنَّاسِ عِنْدَ قِرَانَةِ الْفَاتِحَةِ وَ وقت اپنے بندوں کو شیطان کے حملہ سے بچائے ، اُسے كَلَامِ رَبِّ النَّاسِ وَ يَدْفَعُهُ بِحَرْبَةٍ مِنْهُ اپنے حربہ سے پسپا کرے، اس کے سر پر تبر رکھے اور وَيَضَعُ الْفَأْسَ فِي الرَّأْسِ وَ يُخَلِّص غافلوں کو غفلت سے نجات دے۔ پس اس نے شیطان کو الْغَافِلِينَ مِنَ النُّعَاسِ فَعَلَّمَ كَلِمَةً مِنْهُ دھتکارنے کے لئے جو قیامت تک راندہ درگاہ ہے اپنے لِطَرُدِ الشَّيْطَانِ الْمَدْحُورِ إِلَى يَوْمِ ہاں سے بندوں کو ایک بات سکھائی اور اس مخفی امر یعنی تعوذ النُّشُورِ وَكَانَ سِرُّ هَذَا الْأَمْرِ الْمَسْتُورِ میں یہ راز ہے کہ شیطان قدیم سے انسان کا دشمن ہے اور أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ عَادَى الْإِنْسَانَ مِن وہ اسے پوشیدہ اور اچانک طور پر ہلاک اور بر باد کرنا چاہتا الشُّهُورِ وَ كَانَ يُرِيدُ إِهْلَا كَهُ مِنْ طَرِيقِ ہے۔ اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز انسان الْإِخْفَاءِ وَالنُّمُورِ وَكَانَ أَحَبَّ الْأَشْيَاءِ کو تباہ کرنا ہی ہے اس لئے اس نے اپنے نفس پر یہ لازم کر إِلَيْهِ تَدْمِيرُ الْإِنْسَانِ وَلِذَالِكَ الْزَمَ لیا ہے کہ وہ ہر اس امر کی طرف کان لگائے رکھے جو نَفْسَهُ أَنْ تُصْغِي إِلى كُلِّ أَمْرٍ يَنْزِلُ خدائے رحمان کی طرف سے لوگوں کو جنّت کی طرف مِنَ الرَّحْمنِ لِدَعْوَةِ النَّاسِ إِلَى بلانے کے لئے نازل ہوتا ہے اور وہ اپنی تمام تر کوشش الْجِنَانِ وَيَبْغُلُ جَهْدَهُ لِلْإِضْلالِ گمراہی اور فتنہ کے پھیلانے میں خرچ کرے۔ پس اللہ تعالیٰ