تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 24

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴ سورة الفاتحة طرح کشف قبور اور دوسرے انواع اقسام کے عجائبات اسی سورہ کے التزام ورد سے ایسے ظہور پکڑتے گئے کہ اگر ایک ادنی پر توہ اُن کا کسی پادری یا پنڈت کے دل پر پڑ جائے تو ایک دفعہ حُبّ دنیا سے قطع تعلق کر کے اسلام کے قبول کرنے کے لئے مرنے پر آمادہ ہو جائے۔اسی طرح بذریعہ الہامات صادقہ کے جو پیشگوئیاں اس عاجز پر ظاہر ہوتی رہی ہیں جن میں سے بعض پیشگوئیاں مخالفوں کے سامنے پوری ہوگئی ہیں اور پوری ہوتی جاتی ہیں اس قدر ہیں کہ اس عاجز کے خیال میں دو انجیلوں کی ضخامت سے کم نہیں اور یہ عاجز بطفیل متابعت حضرت رسول کریم مخاطبات حضرت احدیت میں اس قدر عنایات پاتا ہے کہ جس کا کچھ تھوڑا سا نمونہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ کے عربی الہامات وغیرہ میں لکھا گیا ہے۔خداوند کریم نے اسی رسول مقبول کی متابعت اور محبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیا ہے اور علوم لدنیہ سے سرفراز فرمایا ہے اور بہت سے اسرار مخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق اور معارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پر کر دیا ہے اور بار ہا بتلا دیا ہے کہ یہ سب عطیات اور عنایات اور یہ سب تفضلات اور احسانات اور یہ سب تلطفات اور توجہات اور یہ سب انعامات اور تائیدات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات بیمن متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(براہین احمدیہ چہار ص۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۴۲ تا ۶ ۶۴ حاشیہ نمبر۱۱) سورۃ فاتحہ کی بلندشان جس قدر میں نے اب تک لطائف و معارف و خواص سورۃ فاتحہ لکھے ہیں وہ بدیہی طور پر بے مثل و مانند ہیں مثلاً جو شخص ذرا منصف بن کر اول آن صداقتوں کے اعلیٰ مرتبہ پر غور کرے جو کہ سورۃ فاتحہ میں جمع ہیں اور پھر ان لطائف اور نکات پر نظر ڈالے جن پر سورہ ممدوحہ مشتمل ہے اور پھر حسن بیان اور ایجاز کلام کو مشاہدہ کرے کہ کیسے معافی کثیرہ کو الفاظ قلیلہ میں بھرا ہوا ہے اور پھر عبارت کو دیکھیے کہ کیسی آب و تاب رکھتی ہے اور کس قدر روانگی اور صفائی اور ملائمت اس میں پائی جاتی ہے کہ گویا ایک نہایت مصفی اور شفاف پانی ہے کہ بہتا ہوا چلا جاتا ہے اور پھر اُس کی روحانی تا شیروں کو دل میں سوچے کہ جو بطور خارق عادت دلوں کو ظلمات بشریت سے صاف کر کے موردِ انوار حضرت الوہیت بناتی ہیں جن کو ہم اس کتاب کے ہر موقعہ پر ثابت کرتے چلے جاتے ہیں تو اُس پر قرآنِ شریف کی شانِ بلند جس سے انسانی طاقتیں مقابلہ نہیں کر سکتیں ایسی وضاحت سے کھل سکتی ہے جس پر زیادت متصور نہیں۔(براہین احمدیہ چہار صص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۱،۶۵۰ حاشیہ نمبر۱۱)