تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 22
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ سورة الفاتحة رہے گا۔ہماری محنتوں کی کوئی ضرورت نہیں جو ہونا ہے وہ آپ ہی ہو جائے گا۔اور شاید چوروں اور ڈاکوؤں اور دیگر بد معاشوں کا اندر ہی اندر یہی مذہب ہوتا ہوگا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ا مورخه ۲/جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۴ تا ۶) دوزخ سے حفاظت کا ذریعہ سورہ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں۔پس ہر ایک آیت گویا ایک دروازہ سے بچاتی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۷ ارفروری ۱۹۰۱ صفحہ ۷ ) سورۃ فاتحہ ہر علم اور ہر معرفت پر محیط ہے فَالْحَقُ أَنَّ الْفَاتِحَة أَحَاطَتْ كُلّ عِلْمٍ | پس حق بات یہی ہے کہ سورت فاتحہ ہر علم اور معرفت پر وَمَعْرِفَةٍ وَاشْتَمَلَتْ عَلى كُلِ دَقِيقَةِ حق محیط ہے وہ سچائی اور حکمت کے تمام نکات پر مشتمل ہے اور وَحِكْمَةٍ وَهِيَ تُجِيبُ كُلّ سَائِلٍ وتُذيب یہ ہر سائل کے سوال کا جواب دیتی اور ہر حملہ آور دشمن کو تباہ كُلَّ عَدُةٍ صَائِلٍ وَيُطْعِمُ كُلَّ نَزِيْلٍ إِلَى کرتی ہے۔نیز ہر مسافر کو جو مہمان نوازی چاہتا ہے کھلاتی التَّضَيُّفِ مَآئِلٍ وَ يَسْقِي الْوَارِدِينَ وَ اور آنے اور جانے والوں کو پلاتی ہے۔بے شک وہ ہر شبہ الصَّادِرِينَ وَلَا شَكَ أَنَها تُزِيْلُ كُلّ کو جو نا کامی کی حد تک پہنچانے والا ہو زائل کر دیتی ہے شَءٍ خَيَّبَ وَ تُجِيحُ كُلَّ هَةٍ شَيَّبَ اور ہر غم کو جس نے بوڑھا کر دیا ہو جڑ سے اکھیڑ دیتی ہے وَتُعِيْدُ كُلّ هَدَةٍ تَغَيَّبَ وَتُعْجِلُ كُلّ اور ہر گم شده را ہنما کو ( راہ راست پر ) واپس لاتی ہے اور خَصِيمٍ لَّيْب وَ يُبيرُ الظَّالِبِينَ۔وَلاَ ہر خطرناک دشمن کو شرمندہ کرتی ہے۔طالبان ہدایت کو مُعالج كَمِثْلِهِ لِسْمِ الذُّنُوبِ وَزَيْعِ الْقُلُوبِ بشارت دیتی ہے۔گناہوں کے زہر اور دلوں کی کبھی کے وَهُوَ الْمُوْصِلُ إِلَى الْحَقِّ وَالْيَقِينِ لیے اس جیسا کوئی اور معالج نہیں اور وہ حق اور یقین تک کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد کے صفحہ ۱۴۵) پہنچانے والی ہے۔( ترجمہ از مرتب) معرفت کا پھل دینے والا درخت إِنَّهَا شَجَرَةٌ طَيِّبَةٌ تُؤْتِي كُلّ حِينٍ أُكُلا فاتحہ ایک ایسا پاکیزہ درخت ہے جو ہر وقت معرفت کے مِنَ الْمَعْرِفَةِ وَيُروى مِن تَأْسِ الْحَق وَالْحِكْمَةِ پھل دیتا ہے اور حق و حکمت کے جام سے سیراب کرتا ہے۔