تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 416
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۶ سورة الفاتحة جائے اور نچوڑا جائے تو بحر محبت الہیہ کے اور کچھ اس کے دل اور جان سے نہیں نکلتا۔اسی کے درد سے لذت پاتا ہے۔اور اُسی کو واقعی اور حقیقی طور پر اپنا دل آرام سمجھتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں تمام ترقیات قرب ختم ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے اس انتہائی کمال کو پہنچ جاتا ہے کہ جو فطرت بشری کے لئے مقدر ہے۔یہ لطائف خمسہ ہیں کہ جو بطور نمونہ مشتے از خروارے ہم نے لکھے ہیں مگر عجائبات معنوی اس صورت میں اور نیز دوسرے حقائق و معارف اس قدر ہیں کہ اگر اُن کا عشر عشیر بھی لکھا جائے تو اس کے لکھنے کے لئے ایک بڑی کتاب چاہئے۔اور جو اس سورہ مبارکہ میں خواص روحانی ہیں وہ بھی ایسے اعلیٰ و حیرت انگیز ہیں جن کو طالب حق دیکھ کر اس بات کے اقرار کے لئے مجبور ہوتا ہے کہ بلاشبہ وہ قادر مطلق کا کلام ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۶۷ تا ۶۲۶ حاشیه ۱۱)