تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 409

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۹ سورة الفاتحة میں ذرا کجی نہیں سو اس آیت میں ذاتی خوبی اس راستہ کی بیان فرما کر اس کے حصول کے لئے ترغیب دی۔دوسری جز ترغیب کی یہ ہے کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس شے کے فوائد بیان کئے جائیں۔سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اس راستہ پر ہم کو چلا جس پر چلنے سے پہلے سالکوں پر انعام اور کرم ہو چکا ہے۔سو اس آیت میں راستہ چلنے والوں کا کامیاب ہونا ذکر فرما کر اس راستہ کا شوق دلایا۔تیسری جو ترغیب کی یہ ہے کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس شے کے چھوڑنے والوں کی خرابی اور بدحالی بیان کی جائے۔سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّايِّينَ۔یعنی ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے صراط مستقیم کو چھوڑا اور دوسری راہیں اختیار کیں اور نغضب الہی میں پڑے اور گمراہ ہوئے سو اس آیت میں اس سیدھا راستہ چھوڑنے پر جو ضر ر مترتب ہوتا ہے اس سے آگاہ کیا۔غرض سورۃ فاتحہ میں ترغیب کی تینوں جزوں کو لطیف طور پر بیان کیا۔ذاتی خوبی بھی بیان کی۔فوائد بھی بیان کئے اور پھر اس راہ کے چھوڑنے والوں کی ناکامی اور بدحالی بھی بیان فرمائی تا ذاتی خوبی کوسن کر طبائع سلیمہ اُس کی طرف میل کریں اور فوائد پر اطلاع پا کر جو لوگ فوائد کے خواہاں ہیں ان کے دلوں میں شوق پیدا ہو اور ترک کرنے کی خرابیاں معلوم کر کے اس وبال سے ڈریں جو کہ ترک کرنے پر عائد حال ہو گا۔پس یہ بھی ایک کامل لطیفہ ہے جس کا التزام اس صورت میں کیا گیا۔پھر تیسر ا لطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ باوجود التزام فصاحت و بلاغت یہ کمال دکھلایا ہے کہ محامد الہیہ کے ذکر کرنے کے بعد جو فقرات دُعا وغیرہ کے بارہ میں لکھے ہیں۔ان کو ایسے عمدہ طور پر بطور لف و نشر مرتب کے بیان کیا ہے جس کا صفائی سے بیان کرنا با وجود در عایت تمام مدارج فصاحت و بلاغت کے بہت مشکل ہوتا ہے اور جولوگ سخن میں صاحب مذاق ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے لف و نشر کیسا نازک اور دقیق کام ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اول محامد الہیہ میں فیوض اربعہ کا ذکر فرمایا کہ وہ رب العالمین ہے۔رحمان ہے۔رحیم ہے۔لملِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے۔اور پھر بعد اس کے فقرات تعبد اور استعانت اور دُعا اور طلب جزا کو انہیں کے ذیل میں اس لطافت سے لکھا ہے کہ جس فقرہ کو کسی قسم فیض سے نہایت مناسبت تھی اُسی کے نیچے وہ فقرہ درج کیا۔چنانچہ رب العلمین کے مقابلہ پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ لکھا۔کیونکہ ربوبیت سے استحقاق عبادت شروع ہو جاتا ہے پس اسی کے نیچے اور اسی کے محاذات میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لکھنا نہایت موزوں اور مناسب ہے اور رحمان کے مقابلہ پر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لکھا۔کیونکہ بندہ کے لئے اعانت الہی جو تو فیق ވ