تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 407

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۷ سورة الفاتحة دو اور وہی ایک ذات ہے جو تمام عالموں کی ربّ اور تمام رحمتوں کا چشمہ اور سب کو ان کے عملوں کا بدلہ دینے والی ہے۔پس ان صفات کے بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بخوبی ظاہر فرما دیا کہ سب قدرت اسی کے ہاتھ میں ہے اور ہر یک فیض اسی کی طرف سے ہے اور اپنی اس قدر عظمت بیان کی کہ دنیا اور آخرت کے کاموں کا قاضی الحاجات اور ہر یک چیز کا علت العلل اور ہر یک فیض کا مبدء اپنی ذات کو ٹھہرایا جس میں یہ بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ اس کی ذات کے بغیر اور اس کی رحمت کے بدوں کسی زندہ کی زندگی اور آرام اور راحت ممکن نہیں اور پھر بندہ کو تذلیل کی تعلیم دی اور فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اے مبدء تمام فیوض ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں یعنی ہم عاجز ہیں آپ سے کچھ بھی نہیں کر سکتے جب تک تیری توفیق اور تائید شامل حال نہ ہو پس خدائے تعالیٰ نے دعا میں جوش دلانے کے لئے دو محترک بیان فرمائے ایک اپنی عظمت اور رحمت شاملہ دوسرے بندوں کا عاجز اور ذلیل ہونا۔اب جاننا چاہئے کہ یہی دومحرک ہیں جن کا دُعا کے وقت خیال میں لانا دُعا کرنے والوں کے لئے نہایت ضروری ہے جو لوگ دعا کی کیفیت سے کسی قدر چاشنی حاصل رکھتے ہیں انہیں خوب معلوم ہے کہ بغیر پیش ہونے ان دونوں محرکوں کے دُعا ہو ہی نہیں سکتی اور بجز ان کے آتش شوق الہی دعا میں اپنے شعلوں کو بلند نہیں کرتے یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جو شخص خدا کی عظمت اور رحمت اور قدرت کاملہ کو یاد نہیں رکھتا وہ کسی طرح سے خدا کی طرف رجوع نہیں کر سکتا اور جو شخص اپنی عاجزی اور درماندگی اور مسکینی کا اقراری نہیں اس کی روح اس مولی کریم کی طرف ہرگز جھک نہیں سکتی۔غرض یہ ایسی صداقت ہے جس کے سمجھنے کے لئے کوئی عمیق فلسفہ درکار نہیں بلکہ جب خدا کی عظمت اور اپنی ذلت اور عاجزی متحقق طور پر دل میں منقش ہو تو وہ حالت خاصہ خود انسان کو سمجھا دیتی ہے کہ خالص دُعا کرنے کا وہی ذریعہ ہے سچے پرستار خوب سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں انہیں دو چیزوں کا تصور دُعا کے لئے ضروری ہے یعنی اول اس بات کا تصور کہ خدائے تعالیٰ ہر یک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کا ملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔دوسرے اس بات کا تصور کہ انسان بغیر توفیق اور تائید الہی کے کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتا۔اور بلا شبہ یہ دونوں تصور ایسے ہیں کہ جب دُعا کرنے کے وقت دل میں جم جاتے ہیں تو یکا یک انسان کی حالت کو ایسا تبدیل کر دیتے ہیں کہ ایک متکبران سے متاثر ہو کر روتا ہواز مین پر گر پڑتا ہے اور ایک گردن کش سخت دل کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔یہی گل ہے جس سے ایک غافل مردہ میں جان پڑ جاتی ہے۔انہیں دو باتوں کے تصور سے ہر یک دل دُعا کرنے کی