تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 406
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۶ سورة الفاتحة الرَّبِ الرَّاحِم وَالْعَاثِينَ عَاصِينَ | ہیں۔انہیں اسی بات کا شوق دلایا گیا ہے کہ وہ لالچ کو اپنا وَحُبّب إلَيْهِم أَن يَتَّخِذُوا الظَّمَعَ شِرْعَةً طریق قرار دے لیں اور دنیا کی محبت کو اپنا مقصود بنالیں۔وَحُبِّ الدُّنْيَا مُجعَةٌ فَاسْتَشرفي پس انا جیل کا گہرا مطالعہ کرو تا آپ ہمارے قول کی الأناجيل لِيَظهَرَ عَلَيْكَ صِدقُ ما قيل صداقت ظاہر ہو جائے اور اللہ جلشانہ سے ڈرو اور دوسری وَاتَّقِ الرَّبَّ الْجَلِيلَ وَدَعِ الْأَقَاوِيْلَ | باتوں کو چھوڑ دو۔( ترجمہ از مرتب ) کرامات الصادقین، روحانی خزائن ، جلد ۷ صفحه ۱۴۲ تا ۱۴۴) سورۃ فاتحہ کے لطائف پھر اس طرف خیال کرنا چاہئے کہ علاوہ ان سچائیوں کے اور اس کمال ایجاز کے دوسرے کیا کیا لطائف ہیں جو اس سورہ مبارکہ میں بھرے ہوئے ہیں اگر ہم اس جگہ ان سب لطائف کو بیان کریں تو یہ مضمون ایک دفتر بن جائے گا صرف چند لطیفہ بطور نمونہ بیان کئے جاتے ہیں۔اوّل یہ لطیفہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ فاتحہ میں دعا کرنے کا ایسا طریقہ حسنہ بتلایا ہے جس سے خوب تر طریقہ پیدا ہونا ممکن نہیں اور جس میں وہ تمام امور جمع ہیں جو دُعا میں دلی جوش پیدا کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ قبولیت دعا کے لئے ضرور ہے کہ اُس میں ایک جوش ہو کیونکہ جس دعا میں جوش نہ ہو وہ صرف لفظی بڑبڑ ہے حقیقی دُعا نہیں۔مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ دعا میں جوش پیدا ہونا ہر ایک وقت انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ انسان کے لئے اشد ضرورت ہے کہ دعا کرنے کے وقت جو امور د لی جوش کے محرک ہیں وہ اس کے خیال میں حاضر ہوں اور یہ بات ہر یک عاقل پر روشن ہے کہ دلی جوش پیدا کرنے والی صرف دو ہی چیزیں ہیں ایک خدا کو کامل اور قادر اور جامع صفات کا ملہ خیال کر کے اس کی رحمتوں اور کرموں کو ابتدا سے انتہا تک اپنے وجود اور بقا کے لئے ضروری دیکھنا اور تمام فیوض کا مبدء اسی کو خیال کرنا۔دوسرے اپنے تئیں اور اپنے تمام ہم جنسوں کو عاجز اور مفلس اور خدا کی مدد کا محتاج یقین کرنا یہی دو امر ہیں جن سے دُعاؤں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور جو اور جوش دلانے کے لئے کامل ذریعہ ہیں وجہ یہ کہ انسان کی دُعا میں تب ہی جوش پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے تیں سراسر ضعیف اور نا تو ان اور مدد الہی کا محتاج دیکھتا ہے اور خدا کی نسبت نہایت قوی اعتقاد سے یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بغایت درجہ کامل القدرت اور رب العالمین اور رحمان اور رحیم اور مالک امر مجازات ہے اور جو کچھ انسانی حاجتیں ہیں سب کا پورا کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے۔سوسورۃ فاتحہ کے ابتدا میں جو اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان فرمایا گیا ہے کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو تمام محامد کا ملہ سے متصف اور تمام خوبیوں کی جامع ہے