تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 405

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۵ سورة الفاتحة الْخَيْرِ وَالْمَاءِ فِي الدُّعَاءِ وَعَلَّمَنَا طَرِيقَ | قرآن کریم نے (اپنی) دعا میں روٹی اور پانی کا ذکر کرنا الرُّشْدِ وَ الْاهْتِدَاءِ وَ حَتَّ عَلى أَن ناپسند کیا ہے اور ہمیں رُشد و ہدایت کا طریق سکھایا ہے اور تَّقُول اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ وَ اس بات کی طرف ترغیب دی ہے کہ ہم اهْدِنَا الصِّرَاط تطلب منه الدين القويمَ وَنَعُوذُ بِهِ الْمُسْتَقِيمَ کہیں اور اللہ تعالیٰ سے دین قویم طلب کریں اور مِن طُرُقِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور ضالین کی راہوں سے اُس کی پناہ وَالصَّالِينَ وَ أَشَارَ إِلى أَنَّ رَاحَةً مانگیں۔اِس دُعا میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ دنیا اور الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ تَابِعَةُ يُطلب آخرت کی راحت صحیح راہ کی تلاش اور مخلصانہ فرمانبرداری القِرَاطِ وَالخَلاصِ الطَّاعَةِ - پر منحصر ہے۔فَانْظُرْ إِلَى دُعَاءِ الْإِنْجِيلِ وَ دُعَاءِ پس انجیل کی دُعا پر بھی نگاہ ڈالو اور قرآن کی دعا پر الْقُرْآنِ مِنَ الرَّبِ الْجَلِيلِ وَ كُنْ مِن بھی جو اللہ جل شانہ کی طرف سے ہے اور انصاف عِيسَى کرو۔الْمُنصِفِينَ وَأَمَّا مَا جَاءَ في دُعَاءِ عِیسی حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا میں استغفار کے متعلق جو تَرْغِيْبٌ في الإِسْتِغْفَارِ فَهُوَ تأکید ترغیب آئی ہے وہ بھی ( دراصل ) بے قراروں کی طرح صرف لِدُعَاءِ لدعاء طلبِ الْخَيْرِ أَهْلِ الْاضْطِرَارِ روٹی مانگنے کی دُعا کرنے کی تاکید ہی ہے تا اللہ تعالی رحم کرے لَعَلَّ اللهَ يَرْحَمُ وَ يُعْطِي خُبزًا كَثِيرًا اور اس اقرار ( گناہ) کے بدلہ میں بہت سی روٹیاں دیدے۔عِندَ هَذَا الْإِقْرَارِ فَالْاِسْتِغْفَارُ پس ( ان کا استغفار بھی صرف روٹیاں مانگنے کی خاطر آہ وزاری تَضَرُّعُ لِطَلَبِ الرُّغْفَانِ وَأَصْلُ الْأَمْرِ ہے۔اصل مقصد خدائے بخشندہ سے روٹی مانگنا ہی ہے۔هُوَ طلب الخبر من الله الْمَنَانِ وَ (انجیل کی) اس دعا سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی کے اکثر يَعْمُتُ مِنْ هَذَا الدُّعَاءِ أَن أكثر امجد پیروکار ہمیشہ سے سونے چاندی کے ہی عاشق ہیں اور وہ سونے عِيسَى كَانُوا عُفَّاقَ الذَّهَبِ وَ چاندی کی خاطر خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیتے ہیں۔چند سکوں کی اللُّجَيْنِ وَهَاجِرِى الْحَق لِلْحَجَرَيْنِ وَ خاطر دین کو بیچ ڈالتے ہیں اور چاندی سونے کے سکوں کو ہی بائعي الدِّينِ بِبَعْسٍ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَ اپنے کپڑوں میں چھپائے پھرتے ہیں اور رحم کرنے والے مُخْتَبِنِي خُلاصَةِ النَّضِ وَتَارِ کی ذیل رب کے دامن کے تارک ہیں اس حال میں کہ مفسد و نافرمان