تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 401
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ 1 سورة الفاتحة لَهُ حُصُولَ مُرَادِهِ وَ لِيَعْقِدُوا الْهِمَمَ | تا وہ اُس کے غم کے مٹنے اور اُس کے آشوب چشم کے علاج لِزَوَالِ كَمَدِهِ وَ عِلَاجِ رَمَدِهِ سُبْحَانَ رَبَّنَا کے لئے اپنی کمر ہمت باندھ لیں۔پاک ہے ہمارا رب۔إِنْ هَذَا إِلَّا بُهْتَانٌ مُّبِينٌ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا یہ کمزوری ) اس پر کھلا کھلا بہتان ہے۔اس کا تو یہ عالم أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ مَا ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے کہ وہ ہو جائے اور لِلْبِلْبَالِ وَ رَبّ ذِي الْجَلالِ رَبّ صرف کہ دیتا ہے کہ وہ ہو جائے تو وہ ہو جاتی ہے۔بھلا ربّ الْعَالَمِينَ ذوالجلال اور رب العالمین سے پریشانی کا کیا تعلق؟ ثُمَّ دُعَاءُ الْمَسِيحَ دُعَاء لَّا أَثَرَ فِيهِ پھر حضرت مسیح کی دُعا ایک ایسی دُعا ہے جس میں خدا مِنْ غَيْرِ التَّنْزِيْهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ إِنَّ اللهَ مُنَزَّة کو عیب سے پاک قرار دینے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں۔گویا عَنِ الْكَذِبِ وَ التَّمْوِيهِ وَلكِن لَّا تُوجَدُ یہ دعا یہ کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ جھوٹ اور بناوٹ سے تو فِيْهِ كَمَالَاتٌ أُخْرَى وَلَا مِنَ الصَّفَاتِ پاک ہے لیکن نہ اس میں کوئی اور کمالات پائے جاتے الثَّبُوتِيَّةِ أَثَرٌ أَحْلى فَإِنَّ التَّنْزِية ہیں اور نہ (اس میں ) مثبت صفات کا کوئی معمولی سا بھی وَالتَّقْدِيسَ مِنَ الصَّفَاتِ السَّلْبِيَّةِ كَمَا نشان ( پایا جاتا ہے کیونکہ عیوب سے پاک ہونا منفی لا يَخْفَى عَلَى ذَوِى الْمَعْرِفَةِ وَ الْبَصِيرَةِ وَ صفات میں سے ہے جیسا کہ صاحب معرفت اور بصیرت أَمَّا الصِّفَاتُ السَّلْبِيَّةُ فَهِيَ لَا تَقُومُ لوگوں پر مخفی نہیں اور منفی صفات مثبت صفات کا مرتبہ نہیں مَقَامَ الْإِثْبَاتِ كَمَا ثَبَتَ عِندَ الفِقَاتِ رکھتیں یہ حقیقت پختہ کارلوگوں کے نزدیک ثابت شدہ وَأَمَّا مَا عَلَّمَنَا الْقُرْآنُ مِن الدُّعَاءِ فَهُوَ ہے۔لیکن قرآن کریم نے جو دعا ہمیں سکھائی ہے وہ ان يَشْتَمِلُ عَلى جَميعِ صِفَاتٍ كَامِلَةٍ تُوْجَدُ في تمام صفات کاملہ پر مشتمل ہے جو ذات الہی میں پائی جاتی ہیں۔حضرة الكبرياء أَلَا تَرى إِلى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کیا تم خدائے عزوجل کے کلامِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ مُلِكِ يَوْمِ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کو الدِّينِ كَيْفَ أَحاط صِفاتِ الله نہیں دیکھتے کہ کس طرح وہ تمام صفات الہیہ پر حاوی ہے جُموعَهَا وَتَأَبَطَ أَصْوَلَهَا وَ فُرُوْعَهَا وَأَشَارَ اور کس طرح اُس نے ان اصول اور فروع کو اپنے فِي الْحَمْدُ للهِ أَنَّ اللهَ ذَاتٌ لا تُخطی صِفَاتُه اندر سمیٹ لیا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ میں یہ اشارہ فرمایا کہ