تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۰ سورة الفاتحة فَإِنَّ الْمَحَامِد وَ التَّقَسُّسَاتِ كُلَّهَا ثَابِتَةٌ | انتظار ہے۔یقینا تمام تعریفیں اور پاکیز گیاں اس بارگاہ عزت الخطرَةِ الْعِزَّةِ وَلَا يُنتظر شيئ منها فی کے لئے ثابت ہیں۔ان میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جس کا کسی الأَزْمِنَةِ الاتِيَةِ وَهَذَا هُوَ تَعْلِیمُ آئندہ زمانہ میں ملنے کا انتظار ہو۔یہ قرآن کریم کی وہ تعلیم الْقُرْآنِ وَتَلْقِيْنِ كَلامِ اللهِ الرَّحْمٰنِ كَمَا ہے اور خدائے رحمان کے کلام کی تلقین ہے جس کے متعلق ہم مَرَّ كَلامُنَا في هَذَا الْبَيَانِ وَمَنْ أَقْبَلَ قبل از میں وضاحت کر چکے ہیں۔اور جس شخص نے بھی قرآن عَلَى الْفُرْقَانِ الْمَجِيدِ وَفَهِمَهُ وَ تَدَبَّرَ و مجید کی طرف توجہ کی۔اُسے سمجھا۔اس میں تدبر سے کام لیا نظرَهُ بِالنَّظرِ الشَّدِيدِ فَيَنْكَشِفُ عَلَيْهِ اور اس پر صیح طور سے غور کیا اُس پر یہ بات منکشف ہو جائے گی أَنَّ الْفُرْقَانَ قَد أَكْمَلَ في هَذَا الأَمرِ کہ قرآن کریم نے اس معاملہ کو مکمل طور پر بیان کیا ہے اور اس الْبَيَان وَصَرَحَ بِأَنَّ لِلهِ كَمَالاً تاما بات کی تصریح کر دی ہے کہ ہر انتہائی کمال اللہ تعالیٰ کو حاصل وَكُلُّ كَمَالٍ ثَابِتٍ لَّهُ بِالْفِعْلِ وَلَيْسَ ہے اور اُس کے لئے ہر کمال بالفعل ثابت ہے اور اس میں کوئی فِيْهِ كَلَامُ وَتَجوِيزُ الْحَالَةِ الْمُنتَظَرَ له کلام نہیں اور اس کے لئے کسی حالت منتظرہ کا تجویز کرنا جَهَلْ وَظُلْمٌ وَاجْتِرَاهُ وَأَمَّا الْإِنجِيلُ جہالت، ظلم اور گناہ ہے۔لیکن انجیل خدائے باری تعالیٰ کو فَيَجْعَلُ الْبَارِى عَزَّ اسمه محتاجا إلى حالت منتظرہ کا محتاج اور بعض گم شدہ اور غیر موجود کمالات کے الْحَالَةِ الْمُنتَظَرَةِ وَضَاجِرًا لِكَمَالات لئے بے چین قرار دیتی ہے۔اور انجیل خدائی درخت کے کامل مفْفُوْدَةٍ غَيْرِ الْمَوْجُودَةٍ وَلَا يَقْبَلُ ہونے کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ اُس کے پھل کے پکنے کی صرف وُجُودَ كَمَالِ شَجَرَتِهِ بَلْ يُظهِرُ الْأَمَانِي آرزو ظاہر کرتی ہے۔خدا کے بدر منور ہونے کی قائل نہیں بلکہ لا يُنَاعِ ثَمَرَتِهِ وَلَيْسَ قَائِلُ اسْتِنَارَةِ وہ اس کی قدر و منزلت کے بڑھنے کے زمانہ کی منتظر ہے گویا بَدْرِهِ بَلْ يَنْتَظِرُ زَمَانَ عُلُو قَدْرِهِ كَانَ انجیل کا خدا مرادوں کے بر نہ آنے کے رنج کی وجہ سے خاموش رَبَّ الْإِنجِيلِ وَادَم مِن فَقَدِ الْمُرَادَاتِ ہے اور اپنے ارادوں کو پورا کرنے سے عاجز ہے۔اس نے کتنی ہی وَعَاجِزٌ عَنْ إِمْضَاءِ الْإِرَادَاتِ وَكَمْ راتیں اپنے کمالات ( کے عروج کو پہنچنے ) کا انتظام کرتے من لَيْلَةٍ بَاءَهَا يَنتَظِرُ كَمَالات ہوئے اور حالات کے پلٹا کھانے کی اُمید میں گزار دیں یہاں وَيَتَرَقِّبُ تَغَيُّرَ حَالَاتٍ حَتَّى يَئِسَ مِن تک کہ وہ کامیابی کے ایام سے مایوس ہو گیا اور اپنے بندوں کی وہ أَيَّامٍ رَشَادِهِ وَ أَقْبَلَ عَلَى عِبَادِهِ لِيَتَمَنوا طرف متوجہ ہوا تا وہ اُس کی مراد بر آنے کی دعائیں کریں اور