تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 399

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۹ سورة الفاتحة لُوقَا قَدْ كُتِبَ فِي الْأَصْحَاحِ الْحَادِي عَشَرَ | شان میں زیادہ بلند ۔ دلیل کے لحاظ سے زیادہ مکمل اور أَنَّ الْمَسِيحَ عَلَّمَ الدُّعَاءَ هُكَذَا فَقَالَ طالبان حق کے لیے زیادہ نفع رساں ہے۔ اب جان لو کہ لَهُمْ يَعْنِي لِلْحَوَارِيِّينَ مَتَى صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا انجیل لوقا باب میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے حواریوں أَبَانَا الَّذِي فِي السَّمَاوَاتِ لِيَتَقَدَّس اسمك كو اس طرح کی دُعا سکھائی اور اُنہیں کہا: جب تم دُعا کرو تو لِيَأْتِ مَلَكُوتُكَ لِتَكُنْ مَشِيَّتُكَ كَمَا فِي کہو اے ہمارے باپ جو آسمانوں پر ہے تیرے نام کی السَّمَاوَاتِ كَذَلِكَ عَلَى الْأَرْضِينَ خُبزنا تقدیس ہو۔ تیری بادشاہت آوے۔ تیری مراد جیسی كَفَافَنَا أَعْطِنَا كُلَّ يَوْمٍ وَاغْفِرْ لَنَا آسمانوں پر ہے زمینوں پر بھی بر آوے۔ ہماری روز کی خَطَايَانَا لِأَنَّنَا نَحْنُ أَيْضًا تَغْفِرُ لِكُلِّ مَنْ روٹی ہر روز ہمیں دے اور ہمارے گناہوں کو بخش کیونکہ يُذْنِبُ إِلَيْنَا يَعْنِي نَغْفِرُ لِلْمُذْنِبِيْنَ وَلَا ہم بھی اپنے تمام قصور واروں کا قصور بخشتے ہیں اور ہمیں تُدْخِلْنَا فِي تَجْرِبَةٍ لَكِنْ تَجْنَا مِنَ الشَّرِيرِ آزمائش میں نہ ڈال بلکہ ہم کو شریر سے بچا۔“ هُذَا دُعَاءُ عُلِّمَ لِلْمَسِيحِيِّينَ b یہ دعا ہے جو مسیحیوں کو سکھائی گئی ۔ فَاعْلَمْ أَنَّهُ دُعَاءُ يُفَرِّطُ فِي الصِّفَاتِ معلوم رہے کہ یہ دُعا ربانی صفات کو گھٹا کر پیش کرتی الرَّبَّانِيَّةِ وَكَذَلِكَ مَا يُحِيطُ عَلَى مَقَاصِدِ ہے۔ نیز یہ دُعا فطرت انسانی کے تمام مقاصد پر بھی حاوی الْفِطْرَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ بَلْ يَزِيدُ سُورَةَ نہیں بلکہ روحانی حسرت کی شدت کو اور بھی بڑھاتی ہے اور الْحَسْرَةِ الرُّوْحَانِيَّةِ وَيُحَرِّكُ الْقُوَى لِطَلَبِ آخرت کی سعادتوں سے غافل کر کے نفسانی قوئی کو فانی الْأَهْوَاءِ الْفَانِيَةِ وَالشَّهَوَاتِ الْمُتَفَانِيَةِ خواہشوں اور مادی آرزوؤں کے حصول پر ابھارتی ہے۔ مَعَ النُّهُولِ عَنْ سَعَادَاتِ يَوْمِ الدِّينِ اس دُعا کے تمام جملوں میں ایک فقرہ یہ ہے یعنی وَمِنْ جُمْلَةِ جُمَلِهِ فِقْرَةٌ أَعْنِي لِيَتَقَدَّس " تیرا نام پاک مانا جائے ۔ اب اپنی عقل اور فہم سے کام اسْمُكَ فَانْظُرْ فِيهَا بِعَقْلِكَ وَفَهْمِكَ هَلْ لے کر اس پر غور کیجئے کہ آیا آپ اس دعا کو اس کامل تَجِدُهُ حَرِيًّا بِشَأْنِ الْأَعْمَلِ الَّذِي لَيْسَتْ لَهُ ترین ذات کی شان کے شایان پاتے ہیں جس کے حَالَةٌ مُنْتَظَرَةٌ مِنْ حَالَاتِ الكَمَالِ وَلَا مَرْتَبَةٌ کمالات کے لئے کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں اور نہ اس مُتَرَقِّبَةٌ مِنْ مَرَاتِبِ التَّقَدُّسِ وَالْجَلَالِ کے تقدس اور جلال کے مراتب میں سے کوئی مرتبہ قابل طبعة لندن ۱۸۷۲ ميلادية