تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 19
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹ سورة الفاتحة ہیں ایسا خیال کیا جائے کہ گویا انسان ان کی نظیر بنانے پر قادر ہے۔حالانکہ جس حالت میں انسان میں یہ قدرت نہیں پائی جاتی کہ ایک گلاب کے پھول کی جو صرف ایک ساعت تر و تازہ اور خوشنما نظر آتا ہے اور دوسری ساعت میں نہایت افسردہ اور پژمردہ اور بدنما ہو جاتا ہے اور اس کا وہ لطیف رنگ اُڑ جاتا ہے اور اس کے بات ایک دوسرے سے الگ ہو کر گر پڑتے ہیں نظیر بنا سکے تو پھر ایسے حقیقی پھول کا مقابلہ کیونکر ہو سکے جس کے لئے مالک ازلی نے بہار جاوداں رکھی ہے اور جس کو ہمیشہ بادخزاں کے صدمات سے محفوظ رکھا ہے اور جس کی طراوت اور ملائمت اور حسن اور نزاکت میں کبھی فرق نہیں آتا اور کبھی افسردگی اور پژمردگی اس کی ذات بابرکات میں راہ نہیں پاتی بلکہ جس قدر پرانا ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی تازگی اور طراوت زیادہ سے زیادہ کھلتی جاتی ہے اور اس کے عجائبات زیادہ سے زیادہ منکشف ہوتے جاتے ہیں اور اس کے حقائق دقائق لوگوں پر بکثرت ظاہر ہوتے جاتے ہیں تو پھر ایسے حقیقی پھول کے اعلیٰ درجہ کے فضائل اور مراتب سے انکار کرنا پرلے درجہ کی کور باطنی ہے یا نہیں۔بہر حال اگر کوئی ایسا ہی نابینا ہو کہ جو اپنی اس کور باطنی سے ان خوبیوں کی شان عظیم کو نہ سمجھتا ہوتو یہ بار ثبوت اسی نادان کی گردن پر ہے کہ جو کچھ ہم نے بے نظیری کلام الہی کا ثبوت دیا ہے اور جس قدر ہم نے وجوہ متفرقہ سے اس پاک کلام کا انسانی طاقتوں سے بلند تر ہونا بہ پایہ ثبوت پہنچایا ہے ان سب فضائل قرآنی کی نظیر پیش کرے اور کسی انسان کے کلام میں ایسے ہی کمالات ظاہری و باطنی دکھلاوے جن کا کلام الہی میں پایا جانا ہم نے ثابت کر دیا ہے۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۰۹ تا ۴۱۴ حاشیہ نمبر۱۱) سورۃ فاتحہ کا ایک عظیم اثر فاتحہ فتح کرنے کو بھی کہتے ہیں۔مومن کو مومن اور کافر کو کا فربنا دیتی ہے یعنی دونوں میں ایک امتیاز پیدا کر دیتی ہے اور دل کو کھولتی ، سینہ میں ایک انشراح پیدا کرتی ہے۔اس لئے سورہ فاتحہ کو بہت پڑھنا چاہئے اور اس اقام جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ نمبر ۱۹۰۰ صفحه ۲،۱) دُعا پر خوب غور کرنا ضروری ہے۔سورۃ فاتحہ ایک معجزہ ہے سورۃ فاتحہ تو ایک معجزہ ہے اس میں امر بھی ہے، نہی بھی ہے، پیشگوئیاں بھی ہیں۔قرآن شریف تو ایک بہت بڑا سمندر ہے۔کوئی بات اگر نکالنی ہو تو چاہئے کہ سورۃ فاتحہ میں بہت غور کرے کیونکہ یہ ام الکتاب ہے۔اس کے بطن سے قرآن کریم کے مضامین نکلتے ہیں۔