تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 395

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۵ سورة الفاتحة وجہ سے اسی دنیا میں اس پر غضب پڑتا ہے کیونکہ وہ پاکوں کے حق میں بدزبانی کرتا ہے اور کتوں کی طرح زبان نکالتا ہے۔پس ہلاک کیا جاتا ہے جیسا کہ یہودا اپنی شرارتوں اور شوخیوں کی وجہ سے ہلاک کئے گئے اور بار ہا طاعون کا عذاب ان پر نازل ہوا جس نے ان کی بیخ کنی کر دی اور یا اگر وہ دنیا میں شوخی اور شرارت نہ کرے اور بدزبانی اور شرارت کے منصوبے میں شریک نہ ہو تو اس کے عذاب کی جگہ عالم ثانی ہے جب اس دنیا سے وہ گزر جائے گا۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۰۸ تا ۴۲۰) (سورۃ فاتحہ کا ترجمہ ) تمام تعریفیں اور تمام مدح اور تمام استت اور مہما خدا کے لئے مسلم اور مخصوص ہے جو تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا ہے۔کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جو اس کی پیدا کردہ نہیں اور اُس کی پرورش کردہ نہیں۔وہ رحمن ہے یعنی وہ بغیر عوض اعمال کے اپنے تمام بندوں کو خواہ کا فر ہیں خواہ مومن اپنی نعمتیں دیتا ہے اور اُن کی آسائش اور آرام کے لئے بے شمار نعمتیں اُن کو عطا کر رکھی ہیں اور وہ رحیم ہے یعنی پہلے تو وہ اپنی رحمانیت سے جس میں انسان کی کوشش کا دخل نہیں ایسے قولی اور طاقتیں اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے جن سے نیک اعمال بجالا سکیں اور تکمیل اعمال کے لئے ہر ایک قسم کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور پھر جب اُس کی رحمانیت سے انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ اعمال نیک بجالا سکے تو ان اعمال کی جزا کے لئے خدا تعالیٰ کا نام رحیم ہے۔اور جب انسان خدا تعالیٰ کی رحیمیت سے فیضیاب ہو کر اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس کی طرف سے ابدی انعام و اکرام پاوے تو اس ابدی انعام و اکرام کے دینے کے لئے خدا تعالیٰ کا نام مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے پھر بعد اس کے فرمایا کہ اے وہ خدا جو ان صفات کا تو جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش وغیرہ نیک امور میں تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام اکرام ہے۔اور اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیرے غضب کے نیچے ہیں ( یعنی ایسی شوخی اور شرارت کے کام کرتے ہیں جو اسی دنیا میں مورد غضب ہو جاتے ہیں ) اور ہمیں اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیری راہ کو بھول گئے ہیں اور وہ راہیں اختیار کرتے ہیں جو تیری مرضی کے موافق نہیں۔آمین۔اب دیکھو کہ قرآن شریف کی یہ سورۃ جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے کیسی توحید سے پر ہے جو کسی جگہ انسان کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کہ میں خود بخود ہوں اور خدا کا پیدا کردہ نہیں اور نہ یہ دعوی ہے کہ میرے اعمال اپنی قوت اور طاقت سے ہیں اور وید کی طرح اُس میں یہ دُعا نہیں کہ اے پر میشر ہمیں بہت سی گوئیں دے اور بہت سے گھوڑے دے اور بہت سالوٹ کا مال دے بلکہ یہ دُعا ہے کہ ہمیں وہ راہ دکھا جس راہ سے انسان