تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 394

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة الفاتحة پرستش مت کرو۔پھر اس سورۃ میں یعنی سورۃ فاتحہ میں اس بات کا جواب ہے کہ جب اکاش اور سورج اور چاند اور آگ اور پانی وغیرہ کی پرستش سے منع کیا گیا تو پھر کونسا فائدہ اللہ کی پرستش میں ہے کہ جو ان چیزوں کی پرستش میں نہیں تو دُعا کے پیرایہ میں اس کا جواب دیا گیا کہ وہ خدا ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرتا ہے اور اپنے تئیں آپ اپنے بندوں پر ظاہر کرتا ہے انسان صرف اپنی عقل سے اس کو شناخت نہیں کرتا بلکہ وہ قادر مطلق اپنی خاص تجلی سے اور اپنی زبر دست قدرتوں اور نشانوں سے اپنے تئیں شناخت کرواتا ہے۔وہی ہے کہ جب غضب اور قہر اس کا دنیا پر بھڑکتا ہے تو اپنے پرستار بندوں کو اس غضب سے بچالیتا ہے وہی ہے جو انسان کی عقل کو روشن کر کے اور اس کو اپنے پاس سے معرفت عطا کر کے گمراہی سے نجات دیتا ہے اور گمراہ ہونے نہیں دیتا۔یہ سورہ فاتحہ کا خلاصہ مطلب ہے جس کو پانچ وقت مسلمان نماز میں پڑھتے ہیں بلکہ دراصل اسی دُعا کا نام نماز ہے اور جب تک انسان اس دُعا کو درد دل کے ساتھ خدا کے حضور میں کھڑے ہو کر نہ پڑھے اور اس سے وہ عقدہ کشائی نہ چاہے جس عقدہ کشائی کے لئے یہ دعا سکھلائی گئی ہے تب تک اس نے نماز نہیں پڑھی۔اور اس نماز میں تین چیز میں سکھلائی گئی ہیں۔اول خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کی توحید تا انسان چاند سورج اور دوسرے جھوٹے دیوتاؤں سے منہ پھیر کر صرف اسی بچے دیوتا کا ہو جائے اور اس کی روح سے یہ آواز نکلے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی میں تیرا ہی پرستار ہوں اور تجھ سے ہی مدد چاہتا ہوں اور دوسرے یہ سکھلایا گیا ہے کہ وہ اپنی دُعاؤں میں اپنے بھائیوں کو شریک کرے اور اس طرح پر بنی نوع کا حق ادا کر دے اس لئے دُعا میں اهْدِنَا کا لفظ آیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ اے ہمارے خدا ہم سب لوگوں کو اپنی سیدھی راہ دکھلا۔یہ معنے نہیں کہ مجھے کو اپنی سیدھی راہ دکھا۔پس اس طور کی دُعا سے جو جمع کے صیغہ کے ساتھ ہے بنی نوع کا حق بھی ادا ہو جاتا ہے اور تیسرے اس دُعا میں یہ سکھلانا مقصود ہے کہ ہماری حالت کو صرف خشک ایمان تک محدود نہ رکھ بلکہ وہ ہمیں روحانی نعمتیں عطا کر جو تو نے پہلے راستبازوں کو دی ہیں اور پھر کہا کہ یہ دُعا بھی کرو کہ ہمیں ان لوگوں کی راہوں سے بچا جن کو روحانی آنکھیں عطا نہیں ہوئیں آخر انہوں نے ایسے کام کئے جن سے اسی دنیا میں غضب ان پر نازل ہوا۔اور یا اس دنیا میں غضب سے تو بچے مگر گمراہی کی موت سے مرے اور آخرت کے غضب میں گرفتار ہوئے۔خلاصہ دُعا کا یہ ہے کہ جس کو خدا روحانی نعمتیں عطا نہ کرے اور دیکھنے والی آنکھیں نہ بخشے اور دل کو یقین اور معرفت سے نہ بھرے آخر وہ تباہ ہو جاتا ہے اور پھر اس کی شوخیوں اور شرارتوں کی