تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 393
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۳ سورة الفاتحة صفات نظر آتی ہیں۔غرض اسی طرح خدا نے چاہا کہ اپنی صفات کو مجازی مظاہر میں بھی ظاہر کرے۔تا طالب حق مثالوں کو پا کر اس کے دقیق دردقیق صفات پر اطمینان پکڑ لے۔اب اس تمام تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ چار مجازی دیوتے جو وید میں مذکور ہیں۔چار مجازی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں۔چنانچہ اکاش مجازی طور پر ربوبیت گبری کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اور سورج رحمانیت کی صفت سے موصوف ہے اور چاند رحیمیت کی صفت سے حصہ دیا گیا ہے اور زمین ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی صفت سے بہرہ یاب ہے اور یہ چاروں صفات مشہود و محسوس ہیں۔انہی امور کی وجہ سے موٹی عقل والوں نے در حقیقت ان کو دیو تے قرار دیا ہے اور ان کو رب النوع اور قابل پرستش سمجھا ہے۔پس ان لوگوں کے رڈ کے لئے خدا تعالی اپنی پاک کتاب قرآن شریف میں یعنی سورۃ فاتحہ میں فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا۔الصَّانِينَ - أمين۔ترجمہ:۔حمد اور اُسنت اور مہما اس بڑے رب کے لئے خاص ہے جس کا نام اللہ ہے جو رب العالمین ہے۔اور رحمان العالمین ہے اور رحیم العالمین ہے۔اور مالک جمیع عالم یوم الدین ہے یعنی یہ مرتبہ پرستش کا خدا کے لئے مخصوص ہے کہ اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور جز اسرا کے لئے مالکیت ایک عالم اور ایک رنگ میں محدود نہیں بلکہ یہ صفات اس کی بے انتہا رنگوں میں ظاہر ہوتی ہیں کوئی ان کا انتہا نہیں پاسکتا اور آسمان اور سورج وغیرہ کی ربوبیتیں یعنی پرورشیں ایک خاص رنگ اور ایک خاص قسم میں محدود ہیں اور اس اپنے تنگ دائرہ سے آگے نہیں نکلتیں اس لئے ایسی چیزیں پرستش کے لائق نہیں۔علاوہ اس کے ان کے یہ افعال بالا رادہ نہیں بلکہ ان سب کے نیچے الہی طاقت کام کر رہی ہے۔پھر فرمایا کہ اے وہ سب کے ربّ کہ جو بے انتہا رنگوں میں اپنے یہ صفات ظاہر کرتا ہے۔پرستش کے لائق تو ہی ہے اور سورج چاند وغیرہ پرستش کے لائق نہیں ہیں۔اسی طرح دوسرے مقام میں فرمایا۔لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا القَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ ( حم السجدة : ۳۸) یعنی نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے یہ تمام چیزیں سورج، چاند، آسمان، آگ، پانی وغیرہ پیدا کی ہیں۔چاند اور سورج کا ذکر کر کے پھر بعد اس کے جمع کا صیغہ بیان کرنا اس غرض سے ہے کہ یہ گل چیزیں جن کی غیر قو میں پرستش کرتی ہیں۔تم ہرگز ان کی