تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 391

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۱ سورة الفاتحة کا ایک ظل ہے اور جو سامان رعد اور صاعقہ وغیرہ کا بادل میں ہوتا ہے۔دراصل یہ سب اس کی صفات کے رنگوں میں سے ایک رنگ ہے۔پھر دوسری ربوبیت خدا تعالیٰ کی جو زمین پر کام کر رہی ہے رحمانیت ہے۔اس لفظ رحمان سے بت پرستوں کے مقابل پرسورج دیوتا کارڈ ملحوظ ہے کیونکہ بموجب بت پرستوں کے خیال کے جیسا کہ اکاش یعنی آسمان پانی کے ذریعہ سے چیزوں کو پیدا کرتا ہے۔ایسا ہی سورج بہار کے ایام میں تمام درختوں کو لباس پہناتا ہے۔گویا یہ اس کی وہ رحمت ہے جو کسی عمل پر مترتب نہیں۔پس سورج جسمانی طور پر رحمانیت کا مظہر ہے کیونکہ وہ موسم بہار میں ننگے درختوں کو پتوں کی چادر پہناتا ہے اور اس وقت تک درختوں نے اپنے طور پر کوئی عمل نہیں کیا ہوتا یعنی کچھ بنایا نہیں ہوتا۔تا بنائے ہوئے پر کچھ زیادہ کیا جائے بلکہ وہ خزاں کی غارت گری کے باعث محض نگے اور برہنہ کھڑے ہوتے ہیں پھر سورج کے پرتو و عاطفت سے ہر ایک درخت اپنے تئیں آراستہ کرنا شروع کر دیتا ہے آخر سورج کی مدد سے درختوں کا عمل اس حد تک پہنچتا ہے کہ وہ پھل بنا لیتے ہیں۔پس جبکہ وہ پھل بنا کر اپنے عمل کو پورا کر چکتے ہیں تب چاندان پر اپنی رحیمیت کا سایہ ڈالتا ہے اور رحیم اس کو کہتے ہیں کہ عمل کرنے والے کو اس کی تعمیل عمل کے لئے مدد دے تا اس کا عمل نا تمام نہ رہ جاوے۔پس چاند درختوں کے پھلوں کو یہ مدد دیتا ہے کہ ان کو موٹے کر دیتا ہے اور ان میں اپنی تاثیر سے رطوبت ڈالتا ہے چنانچہ علم طبعی میں یہ مسلم مسئلہ ہے کہ چاند کی روشنی میں باغبان لوگ اناروں کے پھٹنے کی آواز سنا کرتے ہیں۔غرض استعارہ کے طور پر قمر جو نیز دوم ہے رحیم کے نام سے موسوم ہوا کیونکہ بڑا فعل اس کا یہی ہے جو موجود شدہ پھلوں کی مدد کرتا ہے اور موٹا اور تازہ کر دیتا ہے پھر جب وہ پھل طیار ہو جاتے اور اپنے کمال کو پہنچ جاتے ہیں تو زمین ان کو اپنی مالکانہ حیثیت سے اپنی طرف گراتی ہے تا وہ اپنی جزاء سزا کو پہنچیں۔پس اگر وہ عمدہ اور نفیس پھل ہیں تو زمین پر ان کی بڑی عزت ہوتی ہے اور وہ قابل قدر جگہوں میں رکھے جاتے ہیں اور اگر وہ رڈی ہیں تو خراب جگہوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں اور یہ سزا جزا گویا زمین کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ جو خدا نے اس کی فطرت کو دے رکھی ہے کہ اچھے پھل کا قدر کرتی ہے اور بُرے پھل کو ذلیل جگہ رکھتی ہے۔غرض وید میں بطور استعارہ کے یہ چار نام ہیں جو چار بڑے بڑے دیوتاؤں کو عطا ہوئے ہیں۔اوّل اکاش یعنی آسمان جس کو اندر دیوتا بولتے ہیں وہ پانی کا داتا ہے اور قرآن شریف میں ہے کہ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيَّ (الانبیاء : ۳۱) یعنی ہر ایک چیز پانی سے ہی زندہ ہے۔اس لئے یہ مجازی دیوتا یعنی