تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 390
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ سورة الفاتحة جائیں یہ آسمانی ربوبیت یعنی اکاش کا پانی بھی دنیا کو زندہ کرتا ہے اور نابود کو بود کی حالت میں لاتا ہے۔اس طور پر آسمان ایک پہلا ربّ القوع ہے جس سے پانی برستا ہے۔جس کو وید میں اندر کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرّجع (الطارق: ۱۲) اس جگہ آسمان سے مراد وہ کرہ زمہریر ہے جس سے پانی برستا ہے اور اس آیت میں اس کرہ زمہریر کی قسم کھائی گئی جو مینہ برساتا ہے اور رجع کے معنی مینہ ہے اور خلاصہ معنی آیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں وحی کا ثبوت دینے کے لئے آسمان کو گواہ لاتا ہوں جس سے پانی برستا ہے یعنی تمہاری روحانی حالت بھی ایک پانی کی محتاج ہے اور وہ آسمان سے ہی آتا ہے جیسا کہ تمہارا جسمانی پانی آسمان سے آتا ہے اگر وہ پانی نہ ہو تو تمہاری عقلوں کے پانی بھی خشک ہو جا ئیں۔عقل بھی اُسی آسمانی پانی یعنی وحی الہی سے تازگی اور روشنی پاتی ہے۔غرض جس خدمت میں آسمان لگا ہوا ہے یعنی پانی برسانے کی خدمت یہ کام آسمان کا خدا تعالیٰ کی پہلی صفت کا ایک ظلّ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ ابتداہر ایک چیز کا پانی سے ہے۔انسان بھی پانی سے ہی پیدا ہوتا ہے اور وید کی رُو سے پانی کا دیوتا اکاش ہے جس کو وید کی اصطلاح میں اندر کہتے ہیں مگر یہ سمجھنا غلطی ہے کہ یہ اندر کچھ چیز ہے بلکہ وہی پوشیدہ اور نہاں در نہاں طاقت عظمیٰ جس کا نام خدا ہے اس میں کام کر رہی ہے۔اسی کو بیان کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یعنی سورۃ فاتحہ میں یوں فرمایا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی مت خیال کرو کہ بجز خدا کے کوئی اور بھی رب ہے جو اپنی ربوبیت سے دنیا کی پرورش کر رہا ہے بلکہ وہی ایک خدا ہے جو تمہارا رب ہے۔اس کی طاقت ہر ایک جگہ کام کرتی ہے۔اس جگہ اس ترتیب کے لحاظ سے جو اس سورۃ میں ہے اندر دیوتا کارڈ ملحوظ ہے کیونکہ پہلی تربیت اس سے شروع ہوتی ہے۔اسی کو دوسرے لفظوں میں آسمان یا اکاش کہتے ہیں۔اسی وجہ سے دنیا کے لوگ تمام قضاء و قدر کو آسمان کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں۔اور بت پرستوں کے نزدیک بڑا رب النوع وہی ہے جو اندر کہلاتا ہے۔پس اس جگہ اسی کا رڈ منظور ہے اور یہ جتلا نا مقصود ہے کہ حقیقی اندروہی اکیلا خدا ہے۔اس کی طاقت ہے جو پانی برساتی ہے۔آسمان کو رب العالمین کہنا حماقت ہے بلکہ رب العالمین وہی ہے جس کا نام اللہ ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی یہ پہلی ربوبیت ہے جس کو نادانوں نے اکاش یعنی اندر کی طرف منسوب کیا ہے۔بات یہی ہے کہ اندھوں کو اکاش سے پانی برستا نظر آتا ہے مگر برسانے والی ایک اور طاقت ہے اور اس طور پر برسانا یہ جلوہ دکھلانا ہے کہ یہ بھی اس کی ایک صفت ہے۔پس آسمان کی یہ ظاہری ربوبیت اس کی حقیقی ربوبیت